اصحاب احمد (جلد 2) — Page xiv
۔حضرت سیدہ نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ بنت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تحریرفرماتی ہیں: یہ کام آپ کا تاریخ احمدیت میں قیامت تک یاد گار ہے گا۔اس سے استفادہ اٹھانیوالے آپکو مسلسل ثواب پہنچانے والے ثابت ہو نگے۔انشاء اللہ۔اس قسم کی کتب جو دراصل تاریخ ہیں آئندہ نسلوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو دُہرا اجر دینا ہے انشاء اللہ۔ایک تو قادیان کی بابرکت رہائش اور پھر اسی ضمن میں یہ شاندار خدمات۔جزاكم الله احسن الجزاء۔“ - حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری مقیم ربوہ تحریر فرماتے ہیں: میں اس نہایت مفید تالیف پر بڑی مسرت سے آپ کو مبارک باد دیتا ہوں۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ بعض صاحبوں نے اس کی ترتیب کے متعلق مجھ سے کلام کیا ہے۔۔۔۔بڑی ہستیوں کے حالات لکھنے پر تو بہتوں کو توجہ ہو سکتی ہے مگر جو لوگ زیادہ شہرت نہیں رکھتے ان کی طرف توجہ کرنے والے بھی کم ہوتے ہیں اور ان کے حالات کا علم بھی کم لوگوں کو ہوتا ہے اگر ان کے حالات محفوظ نہ کر لئے جائیں تو اکثر رہ جاتے اور پھر محفوظ نہیں کئے جاسکتے۔“ ۵- حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نزیل پشاور تحریر فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے تصنیف کے بعض پہلوؤں کے لحاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ آپ نے اس کارِ خیر میں بہت ہی بڑی محنت اور جد و جہد سے کام لیا ہے۔“ حضرت مولوی صاحب کا ممنون ہوں کہ آپ نے اس مفضل مکتوب میں مفید ہدایات رقم فرمائی ہیں۔- حضرت قاضی محمد یوسف صاحب پراونشل امیر صوبہ سرحد ( پاکستان ) تحریر فرماتے ہیں: ان کی زندگی کے حالات مختصر صورت میں جمع کرنے میں کا مش طبع سے کام لیا ہے۔سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اصحابی کا لنجوم بایھم اقتديتم اهتدیتم یعنی میرے اصحاب ستارے ہیں ان میں سے جس کی اقتدا کرو گے ہدایت پاؤ گے۔اسی طرح حضرت احمد قادیانی نے فرمایا ہے۔صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا