اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 54 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 54

54 خطرہ پڑ گیا تھا۔اور نواب محمد علی خاں صاحب اور ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحب اور میں۔ہم تینوں اس بات کے گواہ ہیں۔فرمایا تقدیر دو طرح کی ہوتی ہے۔ایک کو تقدیر معلق کہتے ہیں اور دوسری کو تقدیر مبرم کہتے ہیں۔ارادہ الہی جب ہو چکتا ہے تو پھر اس کا تو کچھ علاج نہیں ہوتا۔اگر اس کا بھی کچھ علاج ہوتا تو سب دنیا بچ جاتی۔مبرم کے علامات ہی ایسے ہوتے ہیں کہ دن بدن بیماری ترقی کرتی جاتی ہے اور حالت بگڑتی چلی جاتی ہے۔دیکھو 9 دن کا تپ ٹوٹ گیا تھا بالکل نام و نشان باقی نہ رہا تھا، مگر پھر دوبارہ چڑھ گیا۔یہ تو خدا نے نہیں کہا تھا کہ بخار ٹوٹنے کے بعد زندہ بھی رہے گا۔خدا کی دونوں پیشگوئیاں پوری ہوئی تھیں، بخار بھی ٹوٹ گیا اور خوردسالی میں فوت بھی ہو گیا۔کچھ مدت گزری کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک جگہ پانی بہہ رہا ہے اور مبارک اس میں گر گیا ہے۔بہتیرا دیکھا اور غوطے بھی لگائے مگر تلاش کرنے پر نہ ملا۔یہ خواب ہمیشہ میرے مدنظر رہا ہے۔”سید میر حامد شاہ صاحب نے عرض کی کہ حضور میری والدہ نے آج صبح کو خواب میں دیکھا تھا کہ حضور کے چار روشن ستارے ہیں ایک ان میں سے ٹوٹ کر زمین کے اندر چلا گیا ہے۔پھر خلیفہ ڈاکٹر رشید الدین صاحب نے عرض کیا کہ مبارک احمد کولوگ اکثر ”ولی ولی“ کر کے پکارا کرتے تھے۔فرمایا ہاں ولی وہی ہوتا ہے جو بہشتی ہو۔”میاں مبارک احمد کی قبر دوسری قبروں سے کسی قدر فاصلہ پر ہے۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا، بعض اوقات اگر باپ خواب دیکھے تو اس سے مراد بیٹا ہوتا ہے۔اور اگر بیٹا خواب دیکھے تو اس سے باپ مراد ہوتا ہے۔ایک دفعہ میں خواب میں یہاں (بہشتی مقبرہ ) آیا اور قبر کھودنے والوں کو کہا کہ میری قبر دوسروں سے جدا چاہئے۔دیکھو جو میری نسبت تھا وہ میرے بیٹے کی نسبت پورا ہو گیا ۳۰ ۲۰ ستمبر کو بوقت سیر حضور نے فرمایا : ”ہمارے نبی کریم کے زمانہ میں ایک لڑکے کا باپ جنگ میں شہید ہو گیا۔جب لڑائی سے واپس آئے تو اس لڑکے نے آنحضرت صلعم سے پوچھا میرا باپ کہاں ہے۔تو آنحضرت صلعم نے اس لڑکے کو گود میں اٹھا لیا اور کہا کہ میں تیرا باپ ہوں۔ایک عورت کا حال بیان