اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 44 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 44

44 صاحبزادہ صاحب کی وفات پر حضور کا صبر کا نمونہ : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو صاحبزادہ صاحب مرحوم سے بہت محبت تھی۔باوجود اس کے حضور نے آپ کی وفات پر جو کامل صبر کا نمونہ دکھایا وہ ہمارے لئے بہترین اسوہ ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام میفہم فرماتے ہیں: ” جب ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام دن رات اس کی تیمار داری میں مصروف رہتے تھے اور بڑے فکر اور توجہ کے ساتھ اس کے علاج میں مشغول رہتے تھے۔اور چونکہ حضرت صاحب کو اس سے بہت محبت تھی، اس لئے لوگوں کا خیال تھا کہ اگر خدانخواستہ وہ فوت ہو گیا تو حضرت صاحب کو بڑا صدمہ گذرے گا۔لیکن جب وہ صبح کے وقت فوت ہوا۔تو فوراً حضرت صاحب بڑے اطمینان کے ساتھ بیرونی احباب کو خطوط لکھنے بیٹھ گئے کہ مبارک احمد فوت ہو گیا ہے اور ہم کو اللہ کی رضاء پر راضی ہونا چاہئے اور مجھے بعض الہاموں میں بھی بتایا گیا تھا کہ یا یہ لڑکا بہت خدا رسیدہ ہوگا اور یا بچپن میں فوت ہو جائے گا۔سو ہم کو اس لحاظ سے خوش ہونا چاہئے کہ خدا کا کلام پورا ہوا۔اور حضرت خلیفہ ثانی بیان کرتے ہیں کہ جس وقت مبارک احمد فوت ہونے لگا تو وہ سویا ہوا تھا۔حضرت خلیفہ اول نے اس کی نبض دیکھی تو غیر معمولی کمزوری محسوس کی، جس پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عرض کیا کہ حضور نبض میں بہت ہی کمزوری ہے، کچھ کستوری دیں۔حضرت صاحب جلدی سے صندوق میں سے کستوری نکالنے لگے۔مگر مولوی صاحب نے پھر کہا کہ حضور نبض بہت کمزور ہوگئی ہے۔حضرت صاحب نے کستوری نکالنے میں اور جلدی کی۔مگر پھر مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور نبض نہایت ہی کمزور ہے۔حضرت خلیفہ ثانی بیان کرتے تھے کہ اس وقت دراصل مبارک احمد فوت ہو چکا تھا مگر حضرت مولوی صاحب حضرت مسیح موعود کی تکلیف کا خیال کر کے یہ کلمہ زبان پر نہ لا سکتے تھے۔مگر حضرت صاحب سمجھ گئے اور خود آ کر نبض پر ہاتھ رکھا تو دیکھا کہ مبارک احمد فوت ہو چکا ہے۔اس پر حضرت صاحب نے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کہا اور بڑے اطمینان کے ساتھ بستہ کھولا اور مبارک احمد کی وفات کے متعلق دوستوں کو خط لکھنے بیٹھ گئے۔* اور مجھ سے حافظ * حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ذیل کا مکتوب حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب کو تسلی کیلئے تحریر کیا : (باقی اگلے صفحہ پر )