اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 43 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 43

43 پھر لکھتے ہیں: ” خلیفہ ڈاکٹر رشید الدین صاحب نے (حضور کی خدمت ) میں عرض کیا کہ مبارک احمد کو لوگ اکثر و گی۔ولی کر کے پکارا کرتے تھے۔۲۴ مکرم ڈاکٹر عطر الدین صاحب درویش نے صاحبزادہ صاحب کی سعید فطرت کے متعلق مجھ سے بیان کیا کہ میں آپ کو دُعا کے لئے کہا کرتا تھا، جس وقت کہتا اُسی وقت ہاتھ اُٹھا کر دُعا کرنے لگ جاتے۔کتبہ کی عبارت: * حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کے کتبہ کی عبارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نوشتہ ہے۔۲۵ کتبہ کی عبارت ذیل میں درج کی جاتی ہے: جگر کا ٹکڑہ مبارک احمد جو پاک شکل اور پاک جو تھا وہ آج ہم سے جدا ہوا ہے ہمارے دل کو حزیں بنا کر کہا کہ آئی ہے نیند مجھ کو یہی تھا آخر کا قول لیکن کچھ ایسے سوئے کہ پھر نہ جاگے تھکے بھی ہم پھر جگا جگا کر ! برس تھے آٹھ اور کچھ مہینے کہ جب خدا نے اُسے بلایا بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پر اے دل تو جاں فدا کر ! میں جو غلام احمد نام خدا کا مسیح موعود ہوں، مبارک احمد جس کا اوپر ذکر ہے میرا لڑکا تھا۔وہ بتاریخ ۷ شعبان ۱۳۲۵ھ مطابق ۶ استمبر۱۹۰۷ء بروز دوشنبه بوقت نماز صبح وفات پا کر الهامی پیشگوئی کے موافق اپنے خدا کو جاملا۔کیونکہ خدا نے میری زبان پر اس کی نسبت فرمایا تھا کہ وہ خدا کے ہاتھ سے دنیا میں آیا ہے اور چھوٹی عمر میں ہی خدا کی طرف واپس جائے گا۔* اس کتبہ کی اصل عبارت کا باوجود بسیار تلاش کے کسی اخبار میں حوالہ نہیں مل سکا۔متعدد بار کی مطبوعہ درنشین دیکھی ہیں باوجود ایک ہی شخص کے کئی بار چھاپنے کے کئی دفعہ بعض الفاظ میں اختلاف ہے مثلاً محمد یا مین صاحب تاجر کتب کی طرف سے بعض دفعہ سن وفات ۱۳۳۵ھ درج ہوا ہے اور بعض دفعہ ۱۳۳۵ھ۔بعد کے ایڈیشن پہلوں کی نقول ہونے کی وجہ سے قابل استناد نہیں۔میں نے تاجر صاحب مذکور کی درمین شائع کردہ بار پنجم (سن نامعلوم ) اور طبع ۱۹۲۳ء ۱۹۲۵ء (با طبع نا معلوم ) سے کتبہ کی عبارت یہاں نقل کی ہے۔پہلا کتبہ تبدیل ہو چکا ہے کیونکہ موجودہ کتبہ میں بہت سا اختلاف ہے یعنی موجودہ کتبہ میں (۱) شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم ط درج ہے۔(۲) اشعار کے بعد لکھا ہے کہ تاریخ وفات اس مصرعہ سے بھی نکلتی ہے، جا مبارک تجھے فردوس مبارک ہو دے (۳) تاریخ وفات ۶ ستمبر کی بجائے ۲۶ اگست درج ہے (۴) موافق کی بجائے مطابق لکھا ہے (۵) ''واپس جائیگا' کی جگہ واپس آ جائے گا“ لکھا ہے (مؤلف)