اصحاب احمد (جلد 1) — Page 2
2 زیادہ روشن معلوم ہوتی ہیں۔یہ نسبت زندہ صحابہ کے۔صحابہ حضرت رسول کریم صلم کو مشیت الہی سے کثرت کے ساتھ ایسے ظاہری ونمایاں مواقع جانی قربانی کے میسر آئے جن سے ان کی شاندار ایمانی حالت کا اظہار ہوا۔لیکن موجودہ زمانہ کے حالات مختلف ہونے کی وجہ سے نہ جانی قربانی کے مواقع صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کثرت سے پیش آئے اور نہ ہی ان کے ایمانوں کا اس رنگ میں اظہار ہوا۔ہاں شاذ کے طور پر جو واقعات پیش آئے ان میں خدا کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ نے بھی کم شاندار نمونہ نہیں دکھایا۔بلکہ پورے زور سے کہا جا سکتا ہے کہ آخَرِينَ مِنْهُمُ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ کی عملی تصویر دنیا کے سامنے آ گئی۔حضرت شہزادہ عبداللطیف صاحب شہید اور حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب شہید رضی اللہ عنہما کا ذکر اس امر کے ثبوت کے لئے کافی ہوگا۔موجودہ وقت میں جبکہ ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے صحابہ بقید حیات ہیں۔صحابہ اور غیر صحابہ کا جماعت میں امتیاز نہیں۔اس لئے ان کی خصوصیات نمایاں نہیں۔لوگوں کے ذہن پر یہ اثر ہے کہ صحابہ آنحضرت صلعم کی تعریف تو اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اور صحابہ حضرت مسیح موعود کی نہیں۔اس لئے ان دونوں گروہوں کی مماثلت نہ ہوئی۔لیکن عدم مماثلت کا یہ خیال درست نہیں۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے صحابہ کی تعریف کرتے ہوئے اور ان کی مماثلت صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہوئے بروز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرماتے ہیں: وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز ہوگا۔اس لئے اُس کے اصحاب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کہلائیں گے۔اور جس طرح صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے رنگ میں خدا تعالیٰ کی راہ میں دینی خدمتیں ادا کی تھیں۔وہ اپنے رنگ میں ادا کریں گے۔“ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کے ہر دو گروہوں کو ایک دوسرے سے شدید مشابہ اور مماثل قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ ان میں سے پہلی جماعت بہتر ہے یا دوسری۔اب جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر بیالیس سال کا لمبا عرصہ گذر چکا ہے۔صحابہ کرام کا دور بڑی تیزی سے گذر رہا ہے۔ہمیں جو تا بعین کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ان پاک نفس وجودوں سے ابھی ایمان و عرفان اور عشق و وفا کے بہت سے سبق لینے ہیں۔اور ہم پر اس تعلق میں گوناں گوں فرائض عائد ہوتے ہیں: اوّل یہ کہ ان پاک وجودوں کی درازی عمر کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔تا یہ مبارک دور بہت لمبا ہو جائے۔د وسرے یہ کہ عشق و محبت کے جو جذبات صحابہ کرام کے دلوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے