اصحاب احمد (جلد 1) — Page 264
263 تین دن میں پورے ہو گئے۔‘م * حضور نے قبل از وقت پیشگوئی سننے والے واحد کے قریب احباب کے اسماء درج فرمائے ہیں۔اس زمرہ میں حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ اسیح الاول) حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب (خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ) حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب۔حضرت مولوی شیر علی صاحب۔حضرت مولوی سرور شاہ صاحب اور حضرت قاضی امیر حسین صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہم اجمعین کے اسماء بھی ہیں۔قبل از وقوع اس الہام کے سننے کی شہادت کے طور پر احباب سے دستخط لئے گئے تھے۔چنانچہ اُن میں عبدالکریم کا نام بھی شامل ہے۔کیا ہی مبارک ہیں وہ اصحاب الصفہ جو حضرت بروز محمد اور مصداق یدفن معی فی قبری اللهم صل علیہما و بارک وسلم کی زبان مبارک ہاں تیرہ صدیوں کے بعد نازل ہونے والے موعود اور موعود بھی موعود اقوام عالم کے منہ سے صبح و شام تازہ بتازہ کلام الہی سنتے تھے جو ان کے سامنے پورا ہوکر ان کے از دیا دایمان کا باعث بنتا تھا۔یہ پیارا مسیح دوسرے جہان کو سد ہار چکا اب اُس کے فیض یافتہ حواری۔اس کے شیدائی اور اس کے پروانے جلد جلد ہمیں داغ مفارقت دے رہے ہیں۔قدیم ترین صحابہ میں سے تو صرف چند ایک ہیں اور وہ بھی چراغ سحری۔اے صاحب قدرت اللہ ! تو صحابہ کے مبارک دور کو لمبا کر دے اور ہمیں اُن کے فیوض سے زیادہ سے زیادہ مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرما۔آمین۔اب ہمارے لئے یہ امر باعث تسکین ہے * یہ نشان ایک ہی عبارت میں بدر جلد 4 نمبر ۱۰ (صفحہ ۱) بابت ۷ مارچ ۱۹۰۷ ء - الحکم جلدا انمبر ۸ ( صفحه ۱) بابت ۱۰/ مارچ ۹۷اء اور حقیقتہ الوحی (صفحہ ۶ ۵ تا ۵۸ ) میں درج ہے۔اخبارات مذکورہ میں بوجہ عدم گنجائش گواہوں کے اسماء کا ایک حصہ درج نہیں ہوا۔چونکہ حقیقتہ الوحی میں چالیس کے قریب طالبعلموں کے نام ایک ہی جگہ درج ہیں اور یہ الہام ۲۸ / فروری ۱۹۰۷ء کو ہوا اور ۳/ مارچ ۱۹۰۷ء کی رات کو پورا ہوا۔جس کے پورا ہونے پر الہام قبل از وقوع سنے والوں کے دستخط لئے گئے۔اور اس ماہ فروری میں سگِ دیوانہ والا نشان ظاہر ہو ا تھا۔اس لئے مجھے خیال آیا کہ گواہوں میں عبدالکریم سے شاید یہی عبدالکریم مُراد ہوں۔ان کے نام سے ملحق قبل ممتاز علی نام درج ہے۔چنانچہ مکرم حاجی ممتاز علی صاحب در ولیش پسر مکرم مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب سابق نا ظر اعلی صدر انجمن احمد یہ قادیان وسابق ناظم تحریک جدید قادیان کو فہرست دکھائی۔انہوں نے بتایا کہ عبدالکریم صاحب حیدر آبادی ان کے ہم مکتب تھے۔اور اس نشان کے گواہوں میں انہی کا نام درج ہے نہ کہ کسی اور عبدالکریم کا۔پھر راقم کے استفسار پر کہ آیا اس سے مُراد عبدالکریم صاحب حیدر آبادی ہیں۔نیز کیا اس وقت کوئی اور طالب علم عبدالکریم نامی بھی تھا اور دین محمد“ اور ”عبدالغنی وغیرہ گواہوں سے کون مُراد ہیں۔دو گواہوں گو ہر دین“ اور محمود کے بیانات درج کرتا ہوں۔مکرم ڈاکٹر گوہر دین صاحب میڈیکل آفیسر بمقام من ضلع اٹک ( سابق ملازم بر ما و برادر مکرم حافظ محمد امین صاحب رضی اللہ عنہ ) اپنے مکتوب مورخہ ۱/۵۱/ ۲۵ میں تحریر فرماتے ہیں:۔(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)