اصحاب احمد (جلد 1)

by Other Authors

Page 213 of 293

اصحاب احمد (جلد 1) — Page 213

212 حتی المقدور اس طبقہ کی مالی، علمی مذہبی غرضیکہ ہر طرح خدمت کی۔آپ کی تعلیم گو کچھ نہ تھی لیکن بعد میں آپ نے اتنی ترقی کر لی تھی کہ اپنا نام شیخ حسن احمدی، تحریر کر لیتے تھے۔اور قرآن مجید سادہ اور اس کے نیچے لکھا ہوا تر جمہ پڑھ لیتے تھے۔الفضل میں سے خطبہ کا مضمون پڑھ لیتے تھے۔گو اس کا ایک صفحہ پڑھنے پر بھی کافی وقت صرف کرنا پڑتا تھا۔آپ کی اہلی زندگی : آپ کی اہلی زندگی بہت ہی پُر سکون تھی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو پوتے اور پڑنوا سے تک اولاد دیکھنے کا موقعہ نصیب کیا۔آپ کا سلوک اپنے اہلبیت سے قابل تحسین تھا۔ان کا ہر طرح خیال رکھتے حتی کہ اگر رات کو گھر میں کبھی دیر سے آنا ہوتا تو انہیں بیدار کر کے کسی کام کی تکلیف نہ دیتے۔آپ کی پہلی شادی محترمہ پیر ساں بی صاحبہ سے ہوئی تھی۔جن کے بطن سے زہرہ بی احمد بی عبدالئی اور امتہ ابھی بیگم پیدا ہوئے۔موصوفہ نے سیٹھ صاحب کی بیعت کے قریب کے زمانہ میں ہی بیعت کر لی تھی۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت نہیں کر سکیں۔میر محمدسعید صاحب کی معیت میں خلافت اولی کے قیام کے ایک دو ماہ بعد قادیان آئیں اور چند ماہ قیام کر کے خود اندرون خانہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے درس میں شامل ہوتی رہیں۔اور آپ کے بچے زہرہ بی احمد بی اور عبدالحئی بھی دینی تعلیم پاتے رہے۔سیٹھ صاحب کے غربت کے زمانہ میں اپنے ہاتھ سے محنت کر کے روزی کمانے میں مدددیا کرتی تھیں۔قرآن مجید کی تلاوت کرنے والی تمول کے باوجو د سادہ طبیعت ساده پوش، سادہ خورا اور غرباء پر ور تھیں۔غرباء کا حال معلوم کر کے ان کی امداد کرتیں۔یہ لوگ جھگڑے آپ کے پاس لاتے۔جنہیں آپ نپٹا تیں۔موت کی آخری گھڑیوں میں اپنے بیٹے اور سوت سے کہا کہ میرا گر تہ ابھی اُتار کے صدقہ کردو۔بعد وفات پھاڑ کر اتارنے سے بہتر ہے۔بڑی سیٹھانی ماں کے نام سے مشہور تھیں۔عبدالکریم صاحب ( باؤلے کتنے کے نشان والے) کی خالہ تھیں۔۱۴ ربیع الثانی ۱۳۴۷ھ کو قریباً پینتیس سالہ اہلی زندگی گزار کر آپ نے وفات پائی اور موصیبہ تھیں لیکن احمد یہ مقبرہ یاد گیر سے قادیان نعش نہ لائی جاسکی۔اس لئے بہشتی مقبرہ میں ان کا کتبہ نصب کیا گیا ہے۔* *حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعزیتی مکتوب جس پر حضور کے دستخط ثبت ہیں۔ذیل میں درج کیا جاتا ہے: بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم 2/10/TA قادیان مکر می سیٹھ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ والدہ عزیز عبدالحی کی وفات کی اطلاع آپکے ملفوف مؤرخہ ۲۹ ستمبر ۱۹۲۸ء سے ہوئی۔معلوم کر کے افسوس ہو ا۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کو غریق رحمت کرے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرما دے۔والسلام (دستخط) خاکسارمرزا محموداحمد خلیفۃ المسیح الثانی