اصحاب احمد (جلد 1) — Page 204
203 کمپارٹمنٹ میں نکلے۔یعنی نہ پاس نہ فیل۔ایک دفعہ سیالکوٹ میں اپنے سکول کے مینیجر سے جو پادری تھا تبلیغ کرتے جھگڑا ہوگیا۔مینیجر نے کہا کہ خدا کس سے باتیں کرتا ہے؟ فرمایا کہ میں نے خیال کیا کہ اگر میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تو یہ کوئی اور اعتراض کر دے گا۔میں نے کہا مجھ سے کرتا ہے اور اپنے چند واقعات بتائے۔چند دنوں کے بعد وہ پادری کسی لڑکی کو عیسائی بنا کر لے گیا۔اس کے رشتہ دار اس کی کوٹھی پر گئے اور اس کو مارا۔میں نے دو پہر کو سوئے ہوئے دیکھا کہ پادری کو مار پڑی ہے اور وہ کہتا ہے کہ دائیں طرف زیادہ چوٹیں آئی ہیں۔اسی وقت اُٹھا اور اس کی کوٹھی پر گیا۔اس نے پوچھا کہ آپ کیسے آئے؟ کہا کہ خدا نے مجھے ابھی ابھی ایک بات کہی ہے۔وہ آپ کو بتانے آیا ہوں اور وہ یہ کہ آپ کو مار پڑی ہے اور دائیں طرف زیادہ چوٹیں آئی ہیں۔اس نے اس کی تصدیق کی۔اس نے ناراض ہو کر منشی صاحب کی ترقی روک رکھی تھی۔دوسرے دن سکول میں میرے کمرے میں آیا اور کہنے لگا ہم اس ماہ آپ کو ترقی دیں گے۔میں نے کہا ہم نہیں لیتے۔وہ یہ کہہ کر کہ ہم دیں گے چلا گیا اور ترقی دے دی اور دوسرے ماہ مزید ترقی دے دی۔ایک دن سیالکوٹ کی مسجد میں ایک شخص آیا۔میر حامد شاہ صاحب کے متعلق دریافت کیا اور بتایا کہ میں حج کرنے گیا تھا۔وہاں سے کچھ کھجوریں اور تسبیح وغیرہ شاہ صاحب کے لئے لایا ہوں۔منشی صاحب نے کہا کہ میں آپ سے حج کے متعلق چند باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں اور پوچھا کہ میں فلاں فلاں دروازے سے گذرنے لگا تو کیوں نہ گذرنے دیا گیا؟ حاجی صاحب نے جواب دیا کہ وہ دروازہ بند رہتا ہے۔وہاں سے کسی کو نہیں گذر نے دیتے۔پھر منشی صاحب نے کہا کہ وہ جو بہت سے لوگ ٹوپیاں پہنے ستونوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے وہ کون تھے؟ حاجی نے جواب دیا کہ اس دفعہ بخارا کے بہت سے لوگ آئے ہوئے تھے اور یہ وہ لوگ تھے۔اسی طرح سے منشی صاحب نے مختلف سوالات کئے جن کا وہ حاجی جواب دیتا رہا۔گویا کہ جو نقشہ حج کا منشی صاحب نے خواب میں دیکھا تھا۔وہ اصل کے مطابق تھا۔قادیان ہجرت کر کے آنا : مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے آپ کے متعلق تحریر فرماتے ہیں: حضرت منشی صاحب ! ۱۹۱۳ء میں مستقل طور پر قادیان آگئے تھے اور انہوں نے تعی الاسلام ہائی سکول کے بورڈنگ ہاؤس میں بطور ٹیوٹر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔۱۹۱۴ء میں جب میں دسویں جماعت میں پڑھتا تھا۔میری ان سے واقفیت ہوئی اور واقفیت آہستہ