اصحاب احمد (جلد 1) — Page 13
13 ہیں تو یہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہے اور اگر ہم نے ان کی نقلیں نہیں کیں تو یہ ہماری بدقسمتی کی علامت ہے۔بہر حال ان لوگوں کی قدر کرو۔ان کے نقش قدم پر چلو اور اس بات کو اچھی طرح یاد رکھو کہ فلسفیانہ ایمان انسان کے کسی کام نہیں آتا۔وہی ایمان کام آ سکتا ہے جو مشاہدہ پر مبنی ہو۔اور مشاہدہ کے بغیر عشق نہیں ہوسکتا۔جو شخص کہتا ہے کہ بغیر مشاہدہ کے اسے محبت کامل حاصل ہوگئی ہے وہ جھوٹا ہے مشاہدہ ہی ہے جو انسان کو عشق کے رنگ میں رنگین کرتا ہے اور اگر کسی کو یہ بات حاصل نہیں تو وہ سمجھ لے کہ فلسفہ انسان کو محبت کے رنگ میں نگین نہیں کر سکتا۔فلسفہ صرف دوئی پیدا کرتا ہے“۔۵ احباب سے گذارش ہے کہ کسی صحابی کے متعلق خواہ انہیں ایک آدھ بات ہی معلوم ہو اس سے اطلاع بخشیں۔ایک ایک دو دو باتیں جمع ہو کر معلومات کا مفید مجموعہ تیار ہو جاتا ہے۔اس زمانہ کے گذر جانے پر ایک آدھ بات بھی دستیاب ہونی محال ہوگی نیز دوست اپنے اقارب صحابہ کے حالات سے بھی اطلاع دیں۔بالخصوص ۳۱۳ صحابہ کے اقارب سے خاص طور پر التجا ہے اور اگر کسی دوست کو معلوم ہو کہ فلاں شخص سے ان کے حالات معلوم ہو سکتے ہیں یا (سوائے معروف اصحاب کے ) ۳۱۳ میں سے فلاں فلاں کی اولاد فلاں جگہ موجود ہے اور ان کا ایڈریس یہ ہے۔تو یہ بھی بہت بڑی امداد ہوگی۔نیز اگر پرانے بزرگ حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے حالات قلمبند کر کے ارسال فرما ئیں تو آپ کی سیرت کے طبع نہ ہونے کی کمی کسی بزرگ کی معاونت حاصل کر کے خاکسار پوری کرانے کی کوشش کرے گا۔انشاء اللہ۔گو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے زمانے نہیں پائے پھر بھی میں نے کتب حوالہ جات نہ ملنے اور دیگر سہولتیں حاصل نہ ہونے کے باوجود بعض صحابہ کرام کے حالات شائع کرنے کا اہتمام کیا ہے۔احباب سے درخواست کرتا ہوں کہ چونکہ میں کوئی مصنف نہیں بلکہ یہ میری پہلی کوشش ہے اس لئے جس قسم کی کمی اس تصنیف میں پائیں۔اس کے متعلق مجھے اپنے نیک اور مفید مشورے سے محروم نہ رکھیں۔میری خوش قسمتی ہے کہ اس کتاب کے تعلق میں مجھے بہت سے احباب نے اپنے اپنے رنگ میں بہت مدد دی ہے۔مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی چند ماہ سے اب دالان حضرت ام المومنین اطال الله بقاءها میں رہتے ہیں۔جہاں میں ۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء سے مقیم ہوں۔محترم بھائی جی نے میری درخواست پر کمال مہربانی سے سارا مسودہ سنا اور بہت مفید اصلاحات کیں اور مشورے دئیے۔قریب ہونے کی وجہ سے میں روزانہ جب ضرورت ہوتی آپ سے استفادہ کر لیتا۔اسی طرح اخویم مکرم مولوی برکات احمد صاحب را جیکی بی۔اے ناظر امور عامہ و کے