اصحاب احمد (جلد 12) — Page 96
96 اولین مسجد سوئٹزرلینڈ کا سنگ بنیاد اللہ تعالیٰ نے یہ مبارک امر مقدر کر رکھا تھا کہ حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اپنی ایک صاحبزادی کے علاج کیلئے مجبور ہو کر لندن تشریف لے جائیں اور آپ کو قلب یورپ میں خانہ خدا کا سنگ بنیاد رکھنے کی توفیق ملے۔یہ واقعہ تاریخی لحاظ سے ایک اہم اور منفردانہ حیثیت رکھتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ اگر آپ کے میاں زندہ ہوتے تو یا تو آپ کو یورپ جانے کی مجبوری لاحق نہ ہوتی یا جانا ہوتا تو میاں کے ساتھ۔اس صورت میں میاں کو سنگ بنیا د رکھنے کیلئے منتخب کر لیا جاتا۔اس موقعہ پر اگر آپ یورپ میں نہ ہوتیں۔اور پاکستان سے کسی کو بھجوانے کا سوال پیدا ہوتا۔تو قرعہ فال طبقہ نسواں میں سے کسی فرد پر نہ پڑتا۔میرے نزدیک آپ کی صاحبزادی صاحبہ کی علالت کی تکلیف کے خان صاحب تھے۔بقیہ حاشیہ کا نظام اور زیادہ مفید اور کارآمد بنانے میں بہت منہمک ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی مساعی کو بار آور کرے۔یہ جوان صالح خدا کے فضل اور رحم کے ماتحت بڑی بڑی امید میں دلا رہا ہے۔اللہ تعالیٰ اسے چشم بد سے محفوظ رکھے۔آمین۔21 تا 28۔اپریل 1919 ء زیر دارالامان کا ہفتہ ) جلسہ سالانہ 1919ء میں ناظر صاحب تالیف واشاعت نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس صیغہ کا مقصد یہ ہے کہ مخالفین کی مخالفانہ مساعی کا ایک منظم طریق سے مقابلہ کیا جائے۔اور تبلیغ کیلئے مفید لٹریچر شائع کیا جائے۔حصہ تالیف کے نائب ناظر حضرت حافظ روشن علی صاحب اور اشاعت کے نائب ناظر خان صاحب محمد عبد اللہ الفضل 12 جنوری 1920ءص3) الفضل 12 اکتوبر 1923ء میں آپ کی قادیان میں مراجعت کے ذکر میں آپ کو نائب ناظر تالیف واشاعت لکھا گیا ہے۔(زیر مدینہ اسیخ ) اگر اس صیغہ میں آپ کی خدمات مسلسل سمجھی جائیں تو اپریل 1919ء سے اکتوبر 1923 ء تک ساڑھے چار سال کا عرصہ ہوتا ہے۔یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ مسلسل تھیں یا نہیں۔اگر تسلسل نہیں تھا تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ ہر وقت خدمت سلسلہ کیلئے آمادہ رہتے تھے جب ضرورت ہوتی آپ سرتسلیم خم کر کے خدمت میں لگ جاتے۔( ج ) آپ کو اولین شورئی اور بعد کی متعد د شورکی ہائے میں شمولیت کا موقعہ ملا۔چنانچہ 23-1922ء میں جبکہ علی الترتیب مرکزی تمھیں اور بتیس اور بیرونی ستاون اور چھیانوے نمائندے شریک ہوئے۔1925ء،1928ء، 1929ء،1930ء، 1935ء، 1936ء، 1942ء میں بھی شرکت کی۔(صفحات 82،4،2، 299، 405 ( اس میں سب کمیٹی بیت المال کے رکن تھے۔کسی وجہ سے شرکت نہ کر سکے۔ص 81،79،81،11487 ( سہواد و جگہ نام درج ہے ) 188 بطور صحابی۔