اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 85 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 85

85 گیارہ سال زندہ رہے اور اپنے ذاتی کام اور سلسلہ کے کام کرتے تھے۔موٹر پر احباب کو چندوں اور نمازوں کی تلقین کرنے اور اپنے ذاتی کام سرانجام دینے کیلئے جاتے تھے۔0 حضور نے بیان فرمایا:۔میں صبح کی نماز کے وقت نماز پڑھ کر لیٹ گیا۔بالکل جاگ رہا تھا کہ کشفی طور پر دیکھا کہ کمرہ کے آگے برآمدہ میں میاں عبداللہ خاں صاحب چار پائی سے اتر کر زمین پر کھڑے ہیں۔میں ہی ان کے سامنے ہوں ان کو جو کھڑے دیکھا تو اس خیال سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو صحت بخشی ہے بے اختیار میرے منہ سے الحمد للہ نکلا اور پھر جیسا کہ عام طور پر ہمارے ملک میں نظر لگ جانے کا وہم ہوتا ہے مجھے بھی اس وقت خیال آیا کہ میری نظر نہ لگ جائے۔میں نے جھٹ اپنی آنکھیں نیچی کر لیں اور پھر یہ نظارہ جاتا رہا۔اس وقت میں مکمل طور پر جاگ رہا تھا۔بالکل نیند کی حالت نہ تھی۔خواب میں مریض کو یکدم تندرست ہوتا دیکھنا عام طور پر منذر ہوتا ہے۔مگر ساتھ چونکہ الحمد للہ کہا ہے اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ نیک اور مبشر کشف ہے۔0 معجزانه صحت یابی و شکر خداوندی دوستوں کی خدمت میں درخواست دعا کے عنوان کے تحت آپ ایک کاپی میں تفصیلاً اس علالت اور اس سے معجزانہ شفایابی کا ذکر کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے شکر سے اور اپنے اہل بیت کے شکر سے آپ کا قلب صافی مملو ہے۔تحریر فرماتے ہیں۔" مجھے 8 فروری 1949ء کو کارونی تھر مبوسس کا اس قدر شدید حملہ ہوا۔کہ لاہور کے ایک مشہور آپ اپنی بعض ذمہ داریوں کی ادائیگی کیلئے با وجو د شدید ضعف صحت کے سفر سندھ اختیار کرنا چاہتے تھے۔آپ درخواست دعا کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:۔” میرا بچنا اعجازی اور معجزانہ رنگ رکھتا ہے۔اور میری زندگی سے بڑے بڑے ڈاکٹر مایوس تھے۔گونہایت کمزوری اور نا توانی کی حالت میں ہوں ابھی تک WHEELED CHAIR پر ہی حرکت کرسکتا ہوں۔“ (الفضل 2 ستمبر 1955ء) اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ نے سفر سندھ اختیار کیا اور اراضی سے متعلق اپنے کام سرانجام دیئے۔الفضل 27 نومبر 1950 ء۔یہ کشف ان رؤیا وغیرہ میں شامل ہے جو حضور نے 18 اور 19 نومبر کو بیان فرمائے۔