اصحاب احمد (جلد 12) — Page 49
49 بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم مکر می نواب صاحب۔السلام علیکم امۃ الحفیظ کے رشتہ کے متعلق آپ نے جو خط لکھا تھا۔اس کے متعلق بعد مشورہ اب آپ کو کچھ لکھنے کے قابل ہوا ہوں۔امۃ الحفیظ اس وقت بہت کمزور اور کم عمر ہے۔اس لئے ابھی تین سال تک وہ رخصت ہونے کے نا قابل ہے اس لئے اگر آپ اور میاں عبداللہ خاں اس بات پر راضی ہوں کہ رخصت کرنا تین سال تک ہمارے اختیار میں ہوگا اور یہ کہ مہر اسی طرح جس طرح عزیزہ مبارکہ بیگم کا لکھا گیا تھا لکھا جائے گا گو مقدار کم مثلاً پندرہ ہزار ہو تو یہ رشتہ ہمیں منظور ہے۔موخر الذکر شرط صرف حضرت صاحب کی احتیاط کے مطابق ہے۔دوم جب لڑکی رخصت ہو تو الگ مکان میں الگ انتظام کے ماتحت رہے۔کیونکہ بصورت دیگر بہنوں میں اختلاف کا خطرہ ہوتا ہے۔خاکسار اس خط کا جواب آج ہی مل جانا چاہئے۔نواب صاحب نے جواباً عرض کیا۔مرز امحمود احمد دار السلام دارالامان قادیان بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ 4 جون 1915ء سیدی حضرت خلیفہ اسیح علیہ السلام سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم۔حضور کا والا نامہ پہنچا محمد عبد اللہ خاں کو بھی دکھلا دیا۔ہم دونوں کو حضور کی شرائط ہرسہ گا نہ میں کوئی عذر نہیں۔مہر 15 ہزار منظور۔الگ مکان سے عذر نہیں۔کیونکہ قرآن شریف سے اشارہ معلوم ہوتا ہے تین سال تک تو دیع نہ ہو یہ بھی نا قابل پذیرائی نہیں۔حضور کو تو یہ لکھنا ہی مناسب نہ تھا۔کیونکہ میرے سابقہ عمل کے حضور واقف۔پھر بہ سبب رشتہ داری اور دینی یعنی حضور مخدوم ہیں اور عبداللہ خادم۔حضور پیر ہم مرید۔اس لئے حضور کوئی ایسا معاملہ کر ہی نہیں سکتے۔کہ ایک فریق کا نفع اور دوسرے کا نقصان ہو۔پس جیسے حضور اس طرف ذمہ دار اور وکیل و مربی۔اسی طرح اس طرف سے بھی۔پھر میں اپنے اوپر کیوں رکھوں میں حضور ہی کے سپرد کرتا ہوں کہ جو حضور مناسب تصور فر ما ئیں۔مجھ کو اس میں کوئی عذر نہیں۔حضور تین سال پانچ بعد تودیع تصور فرمائیں۔یہ الفاظ پڑھے نہیں