اصحاب احمد (جلد 12) — Page 36
36 وجہ سے میاں عبداللہ خاں نے مینٹل کا لیمپ وہاں لگا دیا۔جو چھت گیر (سقفی ) تھا۔چنانچہ اس کی سفید اور تیز روشنی نے اس چھوٹے سے کمرہ کو منور کر دیا۔یہی بابا غلام فرید میاں عبد اللہ خان کے دوست اس درس میں جانے والے ساتھی تھے۔جو واپسی پر بورڈنگ میں ٹھہر جاتے اور ہم آگے اپنی کوٹھی کو چلے جاتے تھے۔0 میاں عبداللہ خان بہترین شکاری ، اچھے کھلاڑی اور مدرسہ کی فٹ بال ٹیم کے ممبر تھے۔ایک دو ڈسٹرکٹ ٹورنا منٹوں کے مقابلوں میں بھی انہوں نے شرکت کی تھی۔اس زمانہ میں یہ طریق تھا کہ ٹیم مقابلہ کیلئے جاتے وقت خلیفہ وقت سے ملاقات کر کے جاتی تھی۔روانگی کے وقت دعا ئیں ہوتیں جب ہماری ٹیم کوئی گول کرتی تو کھلاڑی اور احمدی حاضرین سجدے میں گر جاتے۔مولوی صدرالدین صاحب سے عبداللہ خاں کی بڑی دوستی تھی۔کیونکہ وہ ہیڈ ماسٹر تھے اور یہ کھیل کود میں اچھا خاصہ جوش رکھتے تھے۔مگر جب خلافت کے متعلق جھگڑے چلے تو ان کے تعلقات پھیکے پڑ گئے۔مرحوم صاف دل رکھتے تھے۔جب کبھی ان کے دل پر میل بھی آتی۔تو سخت الفاظ سے ان کو دھو ڈالتے۔بل چھل کے عادی نہیں تھے۔مرغیاں انہوں نے پالی تھیں۔والد ان کو مرغی میجر کہتے تھے۔وہ مرغیاں اب بالکل عنقا ہیں۔وہ کالے چمڑے کی ہوتی تھیں بلکہ ہڈی تک ان کی کالی ہوتی تھی۔لیکن ان کا کوٹ سفید اور پشم کی طرح ملائم ہوتا تھا۔قد میں چھوٹی ہوتی تھیں۔اور انڈا بھی معمول سے چھوٹا ہوتا تھا۔مرحوم درخت پر بے تکلف چڑھ جاتے تھے۔نظر نہایت تیز تھی۔جب ہم خالہ جان مرحومہ کی علالت کی وجہ سے حضرت اماں جان والے باغ میں مقیم تھے۔امرودوں کا موسم گزر جانے پر بھی مرحوم درخت کی چوٹی پر چڑھ کر امرود تلاش کر لاتے۔بیڈ منٹن بہت اچھی کھیلا کرتے تھے۔خود ہی ریکٹ کو گٹ کر لیتے شٹل ٹوٹی پھوٹی کو از سرنو نئی اور تازہ کھیلنے کے قابل بنا لیتے۔مکرم ملک غلام فرید صاحب بیان کرتے ہیں کہ بورڈنگ میں سے صرف میں اور صوفی محمد ابراہیم صاحب حال پنشنرز ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ) شریک درس ہوتے تھے۔کیونکہ عام بورڈ ر ان کو بعد مغرب بورڈنگ سے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔اور مولوی صدرالدین صاحب ہیڈ ماسٹر شہر میں رہتے تھے۔یہ بھی شریک ہوتے تھے۔چالیس کے لگ بھگ احباب درس میں شرکت کرتے تھے۔درس حضور اس کمرہ میں دیتے تھے جو حضور کے مکان میں داخل ہوتے ہوئے بائیں طرف تھا۔اب اس کا دروازہ باہر کی طرف ہے اور دکان بن چکی ہے۔کبھی حضور اسی کمرہ کے مشرق کی طرف صحن میں درس دیتے تھے۔اور یہ محن زنانہ محن سے الگ ہے۔