اصحاب احمد (جلد 12) — Page 35
35 انہوں نے مجھے مارا۔مزید مار پیٹ متوقع تھی۔کمزور چھوٹے ہتھیاروں پر اتر آتا ہے۔میں نے سر پوش دے مارا۔جس سے ان کے منہ اور ہونٹ سے خون نکلنے لگا۔میں بہت پریشان ہوا اور ڈر گیا۔والد صاحب محترم میاں عبدالرحمن خان کی علالت کی وجہ سے لاہور میں مقیم تھے۔میاں محمد عبد اللہ خان کا فی ضبط رکھتے تھے۔انہوں نے دلیری سے برداشت کیا ان کا زخم پھوڑا بن گیا۔ڈاکٹر الہی بخش صاحب ( والد ملک محمد اسمعیل صاحب ڈائریکٹر علاج حیوانات بہار ) مرہم پٹی کرتے تھے۔والدہ ( حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ ) اس وقت موجود تھیں۔ان کو یہ واقعہ اب تک یاد ہے اور انہوں نے کئی مرتبہ بیان کیا ہے۔میاں محمد عبداللہ خان صاحب میں برداشت کا مادہ بے حد تھا۔میں نے ان کو روتے کبھی نہیں دیکھا۔البتہ نماز میں اللہ تعالیٰ کے حضور ضرور روتے تھے۔ہم دار امسیح میں رہائش پذیر تھے۔زنانہ میں تعمیر کا کام ہورہا تھا۔معمار مزدور مصروف تھے۔یہ شرارتاً ایک چار پائی پر چڑھ گئے جو دیوار کے ساتھ کھڑی تھی۔وہ گری اور یہ ساتھ ہی نیچے آگرے۔ان کی کہنی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔مجھے خاں ایک بوڑھے ڈیوڑھی بان تھے۔ان کی بڑی بڑی آنکھیں تھیں۔آنکھیں کیا تھیں آگ کے انگارے تھے۔انہوں نے پہلے تو عبداللہ خاں کو ڈانٹا۔پھر ان کو ان کے ٹوٹے ہوئے ہاتھ سے کھینچا اور والد صاحب کے پاس لے جا کھڑا کیا۔مگر باوجود یکہ ان کے ساتھ بڑا نا مناسب درشتی کا سلوک ہوا تھا۔لیکن یہ بالکل نہیں روئے۔مگر انکا چہرہ بتلاتا تھا کہ چوٹ سخت ہے غور سے دیکھنے پر ہڈی ٹوٹی ہوئی ظاہر ہوئی۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے جوڑی۔ڈاکٹر صاحب نے پانچ چھ دن ٹھہر نا تھا انہوں نے ایک دو دن قیام اور زیادہ کر دیا اور ان کو جلد صحت ہوگئی۔سب سے بڑا واقعہ جو عبد اللہ خاں اور میری زندگی کو وابستہ کرتا ہے وہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا درس تھا جو اپنے بڑے بیٹے عبدالحی کو مغرب کی نماز کے بعد اپنے مکان پر دیا کرتے تھے۔جب ہم نے اس درس میں حاضری کی ٹھانی اور ہم گئے۔تو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فر مایا میرا گھر آج نور سے بھر گیا ہے۔اس خوشی میں آپ نے پتاشے بانٹے۔اس فقیر کا گھر کچا سا کوٹھا ہوتا تھا۔فرش چٹائی کا ہوا کرتا تھا۔جس پر آپ اور تمام شریک ہونے والے بیٹھتے تھے۔0 ایک فرشی لیمپ کیروسین سے جلنے والا اس درسگاہ کو روشن کیا کرتا تھا۔اس کی روشنی نا کافی ہونے کی مکرم ملک غلام فرید صاحب بیان کرتے ہیں کہ کبھی آپ کیلئے چٹائی پر معمولی دری بچھی ہوتی تھی۔