اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 193 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 193

193 مانگ لیں۔کیونکہ امی جان کو ساتھ الٹیاں آتی تھیں اور وہ کچھ نہیں کھاتی تھیں۔اس لئے احتیاطاً کہ جب طبیعت ذرا ٹھیک ہو اور وہ کوئی ایسی چیز مانگیں جو گھر میں نہ ہو۔کا شہر بھجوا کر ہر قسم کی چیزیں منگوا کر رکھتے کہ شاید کسی چیز کی امی کو خواہش ہو تو کھا سکیں۔خالہ جان نواب مبار کہ بیگم صاحبہ نے ایک بار ابا جان سے کہا کہ دیکھو۔اب تمہاری بیٹیاں بھی اپنے خاوندوں سے یہی توقع رکھیں گی۔تو ابا جان نے کہا کہ خدا ان کو بھی اچھے ہی دے گا۔خدا تعالیٰ نے ابا جان کی حسن ظنی کو ضائع نہیں کیا۔میں ہمیشہ سوچتی ہوں کہ شاید ہی کبھی کسی باپ نے اپنے بچوں سے ایسی محبت کی ہو۔جیسی ابا جان اپنے بچوں سے کرتے تھے۔میں پلوٹھی کی تھی اور میرے بعد عباس احمد پیدا ہوئے۔اس کے بعد چار لڑکیاں ہوئیں۔مسلسل لڑکیوں کی پیدائش پر وقتی طور پر ذرا سا ملال آجا تا ہوگا۔مگر پھر بعد میں بہت پیار کرنے لگ جاتے اور ساتھ کہتے کہ لڑکیاں آپ پیار لینے لگ جاتی ہیں۔چارلڑکیوں کے بعد پھر دولڑ کے شاہد احمد اور مصطفی احمد ہوئے۔اور ان کے درمیان سب سے چھوٹی بہن فوزیہ ہوئی۔مگر ابا جان نے کبھی لڑکے اور لڑکی میں فرق نہیں کیا۔بلکہ ہمارے بھائیوں کو اکثر یہ شکوہ ہو جا تا تھا۔کہ ابا جان لڑکیوں کو زیادہ پیار کرتے ہیں۔پیار لڑکوں کو بھی اتنا ہی کرتے تھے۔فرق صرف یہ تھا کہ ہم ابا جان سے بے تکلف تھیں اور لڑکوں کے ساتھ تربیت کے خیال سے ابا جان ذرا سنجیدہ رہتے تھے۔صبح کو نماز کیلئے سب کو جگانا ابا جان کا معمول تھا۔بیماری کے بعد جب تک آپ زیادہ چل نہیں سکتے تھے۔تو اکثر اپنی پہیہ دار کرسی پر ہی جا کر دروازے کھٹکھٹاتے اور لڑکوں کو نماز کیلئے بھیجتے۔ہم لڑکیوں کو بھی نماز اور دعا کیلئے بڑی تاکید کرتے۔ایک دفعہ شملہ میں قیام کی بات ہے جبکہ میں غالبا گیارہ یا بارہ سال کی ہوں گی۔سردی بہت تھی۔میں تیم چھپ کر کر رہی تھی کہ ابا جان نے دیکھ لیا اور مجھے بلا کر کہا کہ دیکھو اگر کوئی دیکھ لیتا تو کہتا کہ حضرت مسیح موعود کی نواسی تیم کر کے نماز پڑھ رہی ہے۔اس کے بعد جب بھی میں نے کسی مجبوری یا بیماری کی وجہ سے تمیم کیلئے ہاتھ اٹھائے۔تو مجھے آپ کی یہ نصیحت یاد آجاتی ہے۔محبت کے ساتھ ساتھ گویا آپ تربیت سے کبھی غافل نہیں ہوتے تھے۔آپ کو ہمارا اتنا خیال ہوتا کہ اگر کوئی چھپی ہوئی پریشانی دل کے کسی گوشہ میں ہوتی۔تو اسے بھانپ لیتے تھے اور امی جان سے کہتے تھے۔بیگم ! مجھے فلاں لڑکی اداس لگتی ہے۔پتہ کرو۔1960ء میں میرے میاں (مرزا مبارک احمد صاحب) slip disc کی مرض سے علیل ہوئے جب سفر کے قابل ہوئے۔تو ابا جان ان کو ربوہ سے لاہور علاج کیلئے لے گئے۔ہم آپ کے پاس دو اڑھائی مہینے