اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 183 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 183

183 کیس یورپ اور امریکہ کے بڑے بڑے ڈاکٹروں کے بورڈ میں پیش کیا گیا۔تو انہوں نے یک زبان ہو کر کہا۔کہ It is a miracle یعنی یہ تو معجزہ ہے۔اور انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین نہیں آتا کہ اس قدر خطرناک بیمارکس طرح بچ گیا۔لاہور کے چوٹی کے ڈاکٹر جو آپ کے معالج تھے نہایت جرات سے اس امر کا اقرار کرتے تھے کہ آپ کی زندگی بچانے میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں۔بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے بلکہ ایک ڈاکٹر جب رتن باغ میں آپ کے معائنہ کیلئے تشریف لائے تو کہنے لگے نواب صاحب! آپ کی زندگی ہماری وجہ سے نہیں۔بلکہ اس بورڈ کی وجہ سے (جس پر روزانہ دعا کا اعلان لکھا جاتا تھا ) قائم ہے۔آپ خود بھی بڑے فخر سے کہتے تھے کہ اگر کسی نے دعاؤں کا معجزہ دیکھنا ہے تو مجھے دیکھ لے۔بلکہ اپنے غیر احمدی عزیزوں کو تبلیغ کرتے وقت اکثر اوقات فرماتے کہ حضرت مسیح موعود کی برکات اور آپ کی مسیحائی کا میں جیتا جاگتا ثبوت ہوں۔جسے یورپ کے بڑے بڑے ڈاکٹر زندہ ماننے کو تیار نہیں بلکہ میری زندگی ایک ایسی حقیقت ہے جس سے تم انکار نہیں کر سکتے۔آپ دعاؤں پر بے حد یقین رکھتے تھے۔اور اپنی اولاد کو بکثرت دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے اور اپنی دعاؤں کی قبولیت اور اللہ تعالیٰ کے بیشمار انعامات وافضال کا ذکر کرتے اور ہمیشہ تاکید کرتے کہ تقوی اختیار کرو اور دعاؤں کو بطور خاص شغل اختیار کرو۔اور آخر پر ہمیشہ حضرت مسیح موعود کا یہ شعر پڑھتے۔ہر ایک نیکی کی جڑھ اتقا ہے اگر جڑھ رہی سب کچھ رہا ہے اور یا حضور کا یہ الہام سناتے کہ جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو بلکہ اس قصے کو بڑے فخر سے بیان کرتے کہ ایک دفعہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے محمد آبا داسٹیٹ کے کارکنان کو کسی بدانتظامی پر تنیہ کی اور فرمایا کہ تمہارے قریب ہی میاں عبداللہ خان کی اسٹیٹ نصرت آباد ہے۔وہ کیسی عمدگی سے اس کا انتظام کر رہے ہیں۔حالانکہ وہ ذاتی طور پر زیادہ عرصہ وہاں نہیں رہتے اور تمہیں میں نے یہاں ہر قسم کی سہولتیں دے رکھی ہیں۔لیکن پھر بھی تم کام ٹھیک نہیں کرتے۔جب حضور ناراض ہو چکے تو آخر پر نرمی سے فرمایا کہ اصل میں بات یہ ہے کہ میاں عبداللہ خاں کے کام تو خدا کرتا ہے۔آپ کی بعض باتیں حیران کن نظر آتی ہیں۔مثلاً باوجود بے انتہا سادہ طبیعت پانے کے آپ