اصحاب احمد (جلد 12) — Page 182
182 اجازت سے وہ ہماری ضروریات پر روپیہ خرچ کرتا تھا۔لاہور سے مراجعت پر اس نے جو حساب دیا۔تو اس میں قریباً ایک سور و پریہ کا غبن نکلا۔چنانچہ آپ کے سختی سے پوچھنے پر اس نے تسلیم بھی کر لیا۔اس پر آپ نے اسے سخت ست کہا اور کہا کہ اگر تم شام تک حساب پورا نہ کرو گے تو میں تمہارا معاملہ پولیس کے سپر د کر دوں گا۔چنانچہ وہ چلا گیا اور شام کو کہیں سے روپے لے کر آ گیا۔آپ اس وقت باغ میں ٹہل رہے تھے اور پاس ہی میں کھیل رہا تھا۔جب اس نے روپیہ آپ کو دیا۔تو میں نے دیکھا کہ روپیہ چھوٹے چھوٹے نوٹوں کی شکل میں تھا۔اور معلوم ہوتا تھا کہ وہ جگہ جگہ سے مانگ کر اکٹھا کر کے لایا ہے۔آپ نے روپیہ لے لیا۔تو اسے کہا کہ تم نے نہایت ہی گندی حرکت کی ہے۔اگر ضرورت تھی تو مجھ سے مانگ لیا ہوتا۔ایسی اخلاق سے گری ہوئی حرکت کی سزا یہ ہے کہ تم نوکری سے فارغ ہو اور ابھی نکل جاؤ۔ابھی والد صاحب نے اپنی بات پوری نہیں کی تھی کہ ڈرائیور رو پڑا۔اور کہنے لگا۔نواب صاحب! میں بیوی بچوں والا ہوں ضرورت انسان کو بہت سے گرے ہوئے کام کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔آپ مجھے معاف کر دیں۔میں آئندہ ایسی حرکت کبھی نہیں کروں گا۔آپ یقین کریں۔میں نے یہ روپے گھر گھر بھیک مانگ کر ا کٹھے کئے ہیں۔اس کا یہ کہنا تھا کہ آپ کا غصہ یک لخت فرو ہو گیا اور آپ نے آہستہ آہستہ ٹہلنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ اسے نصیحت آمیز رنگ میں سمجھاتے بھی جاتے تھے۔اور ٹہلتے ٹہلتے اس کے قریب پہنچتے تو پانچ یا دس کا نوٹ اس کے ہاتھ میں تھما دیتے اور پھر میں نے دیکھا کہ نوٹوں کی وہ تھی آہستہ آہستہ تمام کی تمام دوبارہ اس ڈرائیور کے ہاتھوں میں منتقل ہو گئی اور والد صاحب خالی ہاتھ نہیں بلکہ رحمدلی کے بدلہ رحمت الہی کے ڈھیروں ڈھیر لے کر۔مولف ) گھر واپس آگئے اور اس کی غربت پر رحم کھا کر یہ رقم اسے معاف کر دی۔گو اس کی بددیانتی ثابت ہونے کی وجہ سے اسے پھر ملا زمت میں رکھنے کا خطرہ مول نہیں لیا۔بعد ہجرت حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اولین ناظر اعلیٰ مقرر فر مایا۔ان دنوں کام کی زیادتی کی وجہ سے آپ اپنی صحت کا چنداں خیال نہیں رکھ سکے۔کھانے پینے اور آرام کے اوقات کی بے قاعد گیوں کی وجہ سے آپ کی صحت بہت گر گئی حتی کہ 8 فروری 1949ء کو دو پہر ایک بجے دفتر سے آتے ہوئے آپ کو دل کا شدید حملہ ہوا۔اور آپ رتن باغ میں داخل ہوتے ہی سڑک پر گر پڑے۔اس روز آپ پر تین بار حملے ہوئے۔بظاہر مایوسی والی حالت تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ اور احباب کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور معجزانہ طور پر آپ کو مزید تیرہ سال زندگی عطا ہوئی۔جب آپ کا