اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 135 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 135

135 دوست کے ساتھ کراچی حکام سے ملاقات کیلئے گئے۔سفر میں اس دوست سے میں نے ذکر کیا کہ کھانا ہوٹل سے لانا ہے۔انہوں نے اس کی بجائے ریفریشمنٹ میں آرڈر دے دیا اور بیرا سے جھگڑا کیا کہ فلاں چیز باسی تھی۔میں بل نہیں ادا کروں گا۔آپ نے بل ادا کر دیا اور ان سے فر مایا کہ میں تو اسی لئے معمولی غذا پر اکتفا کرتا ہوں کہ ایک تو سلسلہ کا خرچ کم ہو دوسرے اس طرح کے لوگوں سے واسطہ نہ پڑے۔خرید اراضی کی تکمیل کے بعد پہلے احمد آباد اسٹیٹ میں گندم کی کاشت کرائی گئی۔اس طرح آپ کو کئی ماہ وہاں قیام کرنا پڑا۔آپ موسم گرما کا بستر لے کر گئے تھے اور اس خیال سے کہ جلد چلے جانا ہے موسم سرما کا بستر تیار نہ کروایا۔لیکن سردی اُترنے سے آپ کو تکلیف ہو رہی تھی ایک روز میں نے اپنی تو شک و غیرہ بستر کے نیچے ڈال دی۔اس رات فرمایا کہ اب سردی کم ہوگئی ہے۔روانگی کے وقت بستر بندھوانے لگے تو انہیں علم ہوا کہ اس تو شک کی وجہ سے سردی میں کمی آئی تھی اور متاسف ہوئے کہ مجھے تکلیف ہوئی ہوگی۔آپ نے ساڑھے پانچ ہزار ایکڑ اراضی ضلع نواب شاہ میں حاصل کی تھی۔لیکن حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر آپ نے اس کا تبادلہ کرا کے نصرت آباد والی اراضی حاصل کی اور جس دوست کو مینیجر مقرر کیا انہیں فرمایا کہ میرے اور آپ کے درمیان اللہ تعالی ضامن ہے۔اگر آپ میرا حق کسی کو یا کسی کا حق مجھے دیں گے تو بارگاہ الہی میں آپ ذمہ وار ہوں گے۔اس منتظم دوست کو بعض شرائط کے پورا کرنے پر سولہواں حصہ دینے کا آپ نے وعدہ کیا تھا۔وہ شرائط نہ پوری ہوئی تھیں۔اس بناء پر عدم استحقاق کا مشورہ بعض احباب دیتے تھے۔لیکن آپ نے پھر بھی اپنا وعدہ پورا کر دیا۔1956ء میں آپ نے سفر سندھ ایسی حالت میں کیا کہ اپنا تابوت تیار کروایا اور پاس رکھا مجھے لکھا کہ مجبوراً میں یہ سفر کر رہا ہوں۔اس لئے حیدر آباد پہنچنا اور سفر کے عرصہ میں ہمارے پاس رہیں۔بیگم صاحبہ ساتھ ہوں گی۔چنانچہ حیدر آباد پہنچ کر میں نے استقبال کیا۔فرمایا کہ سندھ کا یہ میرا آخری سفر ہے۔چونکہ میں چاہتا ہوں کہ تمام حصہ داروں کو ان کے حصے اپنی زندگی میں دے دوں اور یہ کام میرے یہاں آئے بغیر مکمل نہ ہو سکتا تھا۔اس لئے میں آیا ہوں۔میں اپنا حصہ فروخت کر دوں گا کیونکہ اس سے بہت قلیل آمدنی ہوتی ہے۔چند دنوں بعد میں نے آپ دونوں سے ذکر کیا کہ بڑی محنت سے آپ نے یہ اراضی حاصل کی ہے۔آپ اسے ٹھیکہ پر دے دیں۔اس طرح جائیداد بھی بنی