اصحاب احمد (جلد 12) — Page 130
130 ہوں اتنی اتنی رقوم کا آپ میرے مختار کے طور پر اقرار کریں۔تا کوئی شخص رقم سے زائد کا فیصلہ نہ حاصل کر سکے اور نہ کسی کا حق مارا جائے۔جن لوگوں نے لحاظ کیا ہے اور دعویٰ نہیں کیا میں بھی ان کا لحاظ کر کے پہلے انہیں ادائیگی کروں گا۔چنانچہ براہ راست ادائیگی کے اندراجات مجھے دکھائے اور دعاوی کی ڈگریاں ہونے پر چونکہ آپ ساری رقوم یکمشت ادا کرنے کے قابل نہ تھے۔اس لئے آپ نے نظارت امور عامہ کے ذریعہ سالانہ رقم ادا کرنی شروع کی۔جو نظارت بحصہء رسدی قارضین کو ادا کر دیتی۔آپ اکثر بڑی حسرت سے کہتے کہ دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ میں یہ قرضے اپنی زندگی میں ادا کر دوں مجھے ان کا بہت فکر رہتا ہے۔میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کسی کو تکلیف پہنچے۔0 آپ اپنے احباب سے خاص ہمدردانہ سلوک فرماتے تھے۔میرے بڑے لڑکے نے (جواب بفضلہ انجینئر ہے ) ایف ایس سی اعلیٰ نمبروں پر پاس کر کے یو نیورسٹی سے وظیفہ حاصل کیا۔عزیز کی ذہانت کی وجہ سے اکثر ا قارب و احباب اسے انجینئر نگ کالج میں داخل کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔لیکن میری بے بضاعتی بڑی روک تھی۔بعض ڈراتے کہ انجینئر نگ کالج میں پڑھا نا غریب آدمی کے بس کی بات نہیں۔ابتدائی اخراجات کی رقم اہلیہ کے زیورات کی فروخت سے بھی مہیا نہ ہو سکی۔آپ سے مشورہ پوچھا تو وہاں داخلہ دلانے کی نہایت تاکید کی اور فرمایا۔اللہ تعالیٰ خود اسباب مہیا کر دے گا اور بہت سی مثالیں دے کر بتایا۔کہ ان لوگوں نے تنگی ترشی میں اپنے بچوں کو تعلیم دلائی اور بعد میں خوشحال ہو گئے۔یہ دریافت کر کے کہ رقم داخلہ میں ابھی دوصد روپیہ کی کمی ہے یہ رقم عنایت فرمائی۔اور دوسال تک ہیں روپے ماہوار کی امداد فرماتے رہے۔فَجَزَاهُ اللَّهُ أَحْسَنَ الْجَزَاءِ وَاحْسَنَ مَثْوَاهُ فِي جَنَّاتِ النَّعِيم - اگر چہ آپ کے والد ماجد اور آپ عمر بھر سلسلہ کی مالی خدمت کرتے رہے۔لیکن آپ کے دل میں یہ تڑپ تھی کہ زندگی کے بعد بھی آپ کا کچھ مال دین کی خدمت میں صرف ہوتا رہے۔ایک دفعہ آپ نے مجھے بذریعہ خط لاہور بلوا کر فرمایا کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اور تحریر کردہ وصیت دکھائی اور میرا مشورہ طلب کیا اور اسے بڑی فراخدلی سے قبول فرمایا اس وصیت میں مرقوم تھا کہ جائیداد میں سے ایک لاکھ روپیہ تعمیر مساجد کیلئے دیا جائے۔اور اراضی کی آمد کا ایک حصہ ادا ئیگی قرض کیلئے مخصوص مکرم ملک غلام فرید صاحب فرماتے ہیں۔کہ آپ کے تمام قرض بے باق ہو چکے ہیں جو وفات کے وقت باقی تھے۔حضرت بیگم صاحبہ نے خاص توجہ سے ادا کر دئیے۔