اصحاب احمد (جلد 12)

by Other Authors

Page 129 of 212

اصحاب احمد (جلد 12) — Page 129

129 جو جاتا ہے وہ اپنا قائم مقام چھوڑ کر نہیں جاتا۔اس نظارہ کو دیکھ کر دل بیٹھ جاتا ہے۔اور خیال آتا ہے کہ جماعت کا کیا بنے گا۔لیکن صرف اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں جو ڈھارس بندھا رہے ہیں۔دعاؤں 66 کی اس وقت بہت ضرورت ہے۔۔؟؟ 12۔بیان ثاقب صاحب ا خویم مولوی محمد احمد صاحب ثاقب ( پروفیسر جامعہ احمد یہ ربوہ) تحریر کرتے ہیں :۔تقسیم ملک کے بعد جب آپ ناظر اعلیٰ کے طور پر جو دھامل بلڈنگ میں کام کرتے تھے مجھے آپ کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔اور اس قلیل مدت میں ایسی باتیں دیکھنے میں آئیں جو آپ کی علوشان سخاوت اور تقویٰ کی منہ بولتی تصویر ہیں۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے میں مکرم سید داؤد احمد صاحب ( حال پرنسپل جامعہ احمد یہ ربوہ ) کو تعلیم دیتا تھا۔کہ ایک روز حضرت میاں صاحب موصوف نے مجھے بلوا بھیجا۔میں نے شنید کے مطابق آپ کو پایا اور آپ کی سادگی ، محبت اور ہمدردانہ گفتگو نے میرے دل پر گہرا اثر کیا۔کام معمولی تھا جو میں نے آپ کی ہدایت کے مطابق سرانجام دیا۔لیکن آپ کبھی کبھی مجھے دفتر میں بلا لیتے۔پرسش احوال فرماتے اور ہر قسم کی مالی اور دفتری امداد کا یقین دلاتے ایک روز آپ نے مجھے بلا کر بغیر میرے مطالبہ کے یکصد روپے کا چیک باوجود میرے انکار کے باصرار مجھے دیا اور فرمایا کہ آپ لوگ قادیان سے بے سروسامانی کی حالت میں آئے ہیں۔ضرورت ہوگی۔آپ تاکید فرماتے رہتے کہ کبھی گھر پر آجایا کروں اس طرح تعلق قائم رہتا ہے۔ہمیشہ آپ موسم کے مطابق مشروب سے تواضع فرماتے اور مختلف مسائل پر گفتگو فرماتے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن احباب نے افراد خاندان حضرت مسیح موعود کو قرض دیئے ہوئے ہیں۔وہ وصولی کیلئے قضاء کی طرف رجوع کر سکتے ہیں قضاء کے فیصلہ جات کے بعد میں وصولی میں مدد دوں گا۔چنانچہ بعض افراد نے حضرت مرحوم کے خلاف دعاوی کئے۔چونکہ مرکز ربوہ میں منتقل ہو چکا تھا۔لیکن آپ لاہور میں تھے آپ نے مجھے ریکارڈ مہیا کیا۔جس میں رقوم کی وصولیوں وغیرہ کے اندراجات تھے۔اور فرمایا کہ گوسر کاری قانون کے مطابق یہ لوگ دعوی نہیں کر سکتے۔لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں قرض اُتار دوں۔ریکارڈ کے مطابق جن کے دعاوی