اصحاب احمد (جلد 12) — Page 114
114 1- تاثرات خان عبدالمجید خان صاحب کپور تھلوی حضرت خاں عبدالمجید خاں صاحب کپور تھلوی مرحوم سابق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ( یکے از 313 صحابہ ) جو ماڈل ٹاؤن ہی میں مقیم تھے۔اور تعلق قرابت داری بھی رکھتے تھے رقم فرماتے ہیں:۔آپ سادہ طبیعت، کم گو، راستباز اور متخیر ، رشتہ داروں اور اصحاب جماعت احمدیہ سے نہایت محبت کرنے والے بزرگ تھے۔خاکسار پر خاص طور پر مہربان تھے اور بہت محبت فرماتے تھے۔سلسلہ احمدیہ کی ہرتحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔بفضلہ تعالی مذہبی تھے۔باقاعدہ چندہ ادا کر نے میں خوشی محسوس کرتے۔سلسلہ احمدیہ کے شیدائی اپنے ملا زمان پر ہمیشہ مہربانی فرماتے گالی دینے سے نفرت تھی۔ان سے قصور ہو جاتا تو معاف فرماتے۔جب بھی آپ سے ذکر کرتا کہ آپ کیلئے نمازوں میں دعا کیا کرتا ہوں تو اس کے جواب میں ہمیشہ یہ فرماتے کہ ” خانصاحب میرے لئے خصوصیت سے یہ دعا کیا کریں کہ میرا انجام بخیر ہو۔میں نے کبھی کسی پر ناراض ہوتے نہیں دیکھا۔اپنی بیگم صاحبہ کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں انہوں نے آپ کی بیماری کے ایام ( الفضل 28 نومبر 1961ء) میں بے حد خدمت کی۔2۔تاثرات شیخ محمد دین صاحب مکرم شیخ محمد دین صاحب سابق مختار عام صدر انجمن احمد یہ تحریر کرتے ہیں :۔مجھے آپ کے ماتحت ملکا نہ تحریک میں کام کرنے کا موقعہ ملا۔اور پھر تقسیم ملک کے بعد جبکہ صدر انجمن احمد یہ کے متعدد کارکنان انجمن کو چھوڑ کر منتشر ہو چکے تھے اور انجمن کا مرکزی آفس جو دھامل بلڈنگ لاہور میں تھا۔آپ ان ایام میں ناظر اعلیٰ تھے یہ انتہائی مشکلات کا دور تھا۔آدمیوں اور روپیہ بقیہ حاشیہ عبدالرحمن، تیسرا عبداللہ ، چوتھا عبدالرحیم ، پانچواں میاں بشیر یا میاں شریف۔میاں محمود کے ہاتھ میں دو قرآن ہیں اور باقی کے ہاتھوں میں سوائے عبدالرحیم کے ایک ایک قرآن ہے۔عبدالرحیم کی بابت کہا گیا کہ اس کے ہاتھ میں رحل ہے اس کا قرآن بنوایا جائے گا۔“ (اصحاب احمد جلد دوم ص 561) اس میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ممتاز مقام کے علاوہ باقیوں کیلئے بشمول میاں محمد عبد اللہ خان صاحب معین بشارت دے دی گئی۔البتہ ایک کے متعلق معاملہ اخفاء میں رکھا گیا گویا قرآن مجید بنوانا یا نہ بنوانا ان کے اختیار میں ہے۔