اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 86 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 86

86 رض قادیان لے چلوں۔میں ان کے ساتھ روانہ ہو پڑی اور تھوڑی دور ہی چلے تھے کہ انہوں نے کہا وہ دیکھو قا دیان ہے۔سامنے ایک باغ تھا۔ہم اس میں داخل ہو گئے۔باغ میں ایک مکان تھا۔ہم اس کے برآمدہ میں داخل ہوئے تو سامنے دالان میں ایک پلنگ بچھا ہوا دیکھا۔جس پر چوہدری صاحب ( یعنی والد صاحب ) بیٹھے قرآن کریم پڑھ رہے تھے۔اور ایک جوان خوبصورت عورت پاس کھڑی پنکھا ہلا رہی تھی۔کمرے میں مختلف قسم کے پھل رکھے ہوئے تھے، چوہدری صاحب نے ہمیں اندر بلا لیا اور اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ظفر اللہ خان کی والدہ سے کہہ دینا کہ میں بہت خوش ہوں۔پھر میں ہوش میں آگئی۔اور میں نے دیکھا کہ میرا تپ بالکل اتر گیا ہے اور میں بالکل صحت مند ہوں۔“ 4766 الفضل میں ذکر خیر : ایک اور گراں قدر ہستی اٹھ گئی۔“ اور ” جناب چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کی وفات حسرت آیات کے دوہرے عنوان کے تحت الفضل لکھتا ہے :۔جماعت احمدیہ میں یہ خبر نہایت ہی رنج اور افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ جناب چوہدری نصر اللہ خاں صاحب ناظر اعلی کچھ عرصہ کی علالت کے بعد ۳ ستمبر کی شام کو ۶۳ سال کی عمر میں لاہور میں انتقال فرما گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔یوں تو جناب چوہدری صاحب مرحوم کی صحت عرصہ سے کمزور چلی آتی تھی ، اور کوئی نہ کوئی عارضہ لاحق رہتا تھا۔لیکن باوجود اس کے آپ کو خدمت دین کا اس قدر جوش تھا کہ سلسلہ احمدیہ کی نظارت اعلیٰ کے گراں بار فرائض سرانجام دینے میں مصروف رہتے۔آشوب چشم سے آرام پانے کے بعد گذشتہ جولائی میں آپ نے پھر نظارت اعلیٰ کا چارج لیا مگر چند ہی دن کے بعد بعض ضروری امور کے لئے آپ سیالکوٹ تشریف لے گئے کہ اسی دوران میں علیل ہو کر اپنے قابل اور لائق بیٹے جناب چودھری ظفر اللہ خاں صاحب بیرسٹر ایٹ لاء کے پاس لاہور تشریف لے آئے اور اسی مقام پر داعی اجل کو لبیک کہا۔آہ آپ کی وفات سے سلسلہ عالیہ احمدیہ کا ایک مخلص فرد ، ایک اعلیٰ خدمت گزار، ایک سچا فدائی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اخلاص شعار صحابی کم ہو گیا۔جناب چودھری صاحب مرحوم نے ستمبر ۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے