اصحاب احمد (جلد 11) — Page 85
85 تدفین، والدہ کا صبر : ۲ اور ۳ بجے کے درمیان ہم والد صاحب کا جنازہ لے کر لاہور روانہ ہوئے اور ۸ بجے کے قریب حضرت ام المومنین کے باغ میں پہنچے۔یہ ۳ ستمبر جمعہ کا دن تھا۔حضرت خلیفہ اسیح (ایدہ اللہ بنصرہ) کا تار ڈلہوزی سے آیا کہ اگر طبی لحاظ سے جنازہ میں تا خیر نا مناسب نہ ہو تو انتظار کی جائے۔ہم خود جنازہ پڑھائیں گے۔ڈاکٹر صاحبان نے ملاحظہ کے بعد رائے دی کہ تاخیر میں کوئی حرج نہیں۔چنانچہ حضور کی خدمت میں اطلاع بھیج دی گئی اور حضور کا جواب آیا کہ حضور تشریف لا رہے ہیں۔بارش کی کثرت کی وجہ سے رستہ صاف نہیں تھا۔اس لئے حضور نصف شب کے بعد قادیان پہنچے۔اور ہفتہ کے دن ۴ ستمبر صبح ۹ بجے کے قریب حضور نے نماز جنازہ پڑھائی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مزار والے قطعہ کے مغرب کی طرف خاص صحابہ کے قطعہ میں والد صاحب کو دفن کرنے کی حضور نے اجازت بخشی۔جب قبر کی مٹی ہموار کی جارہی تھی تو یکا یک بارش ہوگئی اور قبر کو ہموار کرنے کے لئے پانی کی ضرورت نہ پڑی۔* ستمبر کو ہم قادیان سے روانہ ہو کر واپس اپنے وطن ڈسکہ کو گئے۔والدہ صاحبہ نے خاکسار کو تاکید کی کہ ڈسکہ ایسے وقت میں پہنچیں کہ کسی نماز کا وقت ہو۔تا پہنچتے ہی نماز میں مصروف ہو جائیں۔اور جو مستورات ماتم پرسی کے لئے آئیں۔انہیں کسی قسم کی جزع فزع کا موقعہ نہ ملے۔چنانچہ جب ہم ڈسکہ کے قریب پہنچے تو ظہر کا وقت ہو گیا تھا۔والدہ صاحبہ نے رستہ میں ہی وضو کر لیا اور مکان پر پہنچتے ہی نماز شروع کر دی۔اس موقعہ پر ہمارے گاؤں کی ایک غیر احمدی عورت نے والدہ صاحبہ سے بیان کیا کہ کل یعنی ۴ ستمبر کو مجھے شدید تپ تھا اور بحران کی حالت تھی۔میں نے بیہوشی میں دیکھا کہ میاں جہاں (جو والد صاحب کے کارندہ تھے اور ان کے ساتھ ہی حج بھی کر چکے تھے ) مجھ سے کہتے ہیں چلو تمہیں 6 زير مدينة المسح الفضل رقمطراز ہے : چونکہ جناب چوہدری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کا جنازہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ( ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ) پڑھائیں، اس لئے جب حضور کو ڈلہوزی میں ان کی وفات کی خبر پہنچی تو حضور ۳ - ۴ ستمبر کی درمیانی رات کو ۱۲ بجے کے قریب دارالامان تشریف لے آئے اور صبح نماز جنازہ پڑھائی۔“