اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 82 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 82

82 کے کفن کی چادریں فلاں جگہ رکھی ہیں وہ اپنے ساتھ لیتے آئیں لیکن اور کسی کو خبر نہ کریں۔ورنہ گاؤں کے سب لوگ یہاں جمع ہو جائیں گے۔پھر فرمایا کہ صندوق کی تیاری کے لئے بھی کہہ دو۔اور تاکید کر دو کہ جمعرات کی شام تک تیار ہو جائے۔اور موٹریں بھی کرایہ پر کرلو۔اور ان کے متعلق ہدایت دے دو کہ نصف شب کے بعد دو بجے آجائیں۔چنانچہ میں نے ان کی ہدایات کے مطابق سب انتظام کر دیا۔یہ منگل کا دن تھا۔سوائے سانس کی خفیف تکلیف کے بظاہر والد صاحب کو کوئی تکلیف 66 نہ تھی۔پوری ہوش میں تھے اور بات چیت کرتے تھے۔لیکن کمزوری آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی۔یکم ستمبر بدھ کی صبح کو فجر کی نماز کے بعد میں اکیلا ہی والد صاحب کے پاس تھا۔میں نے کہا۔آپ اداس تو نہ ہوں گے۔تھوڑے ہی وقفہ کے بعد اللہ تعالیٰ چاہے گا تو ملاقات ہو جائے گی۔انہوں نے جواب میں فرمایا۔”نہیں ، میں اپنے مولیٰ کی رضا پر راضی ہوں۔“ اسی دن سہ پہر کو عزیزان شکر اللہ خان اور اسد اللہ خان پہنچ گئے۔اور بعض اور عزیز اور رشتہ دار بھی آگئے۔جمعرات کے دن دو پہر کے وقت سانس کی جو تکلیف تھی وہ ختم ہوگئی۔نقاہت کو بڑھ رہی تھی لیکن ہوش پوری طرح قائم تھے۔دو پہر کے بعد والدہ صاحبہ سے فرمایا کہ جب ذرا میری آنکھ لگ جاتی ہے۔تو مجھے یوں نظر آتا ہے کہ کمرہ مختلف قسم کے پھلوں سے بھرا ہوا ہے اور نہایت عمدہ خوشبو آرہی ہے۔اور میری طبیعت میں اب کسی قسم کی بے چینی نہیں ہے۔چونکہ دل متواتر کمزور ہورہا تھا۔اس سہ پہر کو ڈاکٹر صاحب بار بار دل کو طاقت دینے کے لئے ٹیکہ کرتے تھے۔والد صاحب فرماتے تھے کہ ٹیکے کرنے کی اب ضرورت نہیں۔لیکن اس خیال سے کہ علاج میں دخل نہیں دینا چاہیئے بالکل انکار بھی نہیں کرتے تھے۔ایک وقت مجھے جو بہت افسردہ دیکھا تو فرمایا۔”بیٹا یہ وقت آیا ہی کرتے ہیں۔“ عصر کے بعد بابو عبد الحمید صاحب آڈیٹر تشریف لائے اور خاکسار کو باہر بلا بھیجا۔صندوق اور موٹروں کا انتظام ان کے سپر د تھا۔انہوں نے بتایا کہ صندوق تیار ہے اور مسجد میں رکھوا دیا گیا ہے۔موٹر میں کرایہ پر کر لی گئی ہیں اور نصف شب کے بعد دو بجے یہاں آجائیں گی۔پھر دریافت کیا کہ چوہدری صاحب کیسے ہیں؟ میں نے بتایا کہ میں ان کے پاس سے باتیں کرتا ہی اٹھ کر آیا ہوں۔مغرب سے تھوڑی دیر پہلے تک عزیز عبداللہ خاں اور ہمشیرہ صاحبہ بھی پہنچ گئے۔عبداللہ خاں نے جب والد صاحب سے مصافحہ کیا تو ان کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا۔والد صاحب نے