اصحاب احمد (جلد 11) — Page 50
50 ہوں۔جس سے لوگ مجھ سے خفا ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا۔ایک خلیفہ موجود ہے، اس کے بعد جسے خدا چاہے گا۔کھڑا کر دے گا۔آپ اس فکر میں کیوں پڑتے ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح نے لاہور والی تقریر میں وضاحت فرما دی ہے کہ اس بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔اس پر خواجہ صاحب نے فرمایا۔کہ مفتی محمد صادق صاحب ہمارے خلاف تو ہر بات اخبار میں درج کر دیتے ہیں۔ہمارے حق کی بات نہیں لکھتے۔اس سے اتنا تو معلوم ہوتا ہے کہ ۱۳- ۱۹۱۲ء میں خواجہ صاحب خلافت کے جاری رہنے کے حق میں تھے ، البتہ انہیں یہ فکر تھی کہ حضرت خلیفہ اول کے بعد خلیفہ کون ہو۔انہی ایام کا ذکر ہے کہ خواجہ صاحب اور میں ایک دفعہ سینیما میں ملکہ الزبیتھ کا ڈرامہ دیکھنے کے لئے گئے۔اس میں ایک منظر یہ تھا کہ ارل آف ایسکس کو بغاوت کے جرم میں موت کی سزا ملتی ہے۔ایک لکڑی کے چبوترے پر جلا دکلہاڑی لئے کھڑا ہے۔ایسکس کو اس چبوترے پر لٹا دیا گیا۔اور اس نے اپنا سر کلہاڑی کے ایک بلاک پر رکھ دیا۔جو نہی جلا د نے تصویر میں کلہاڑی اُٹھائی کہ ایسکس کا سر قلم کر دے تو خواجہ صاحب سخت دہشت زدہ ہو گئے۔اور نہایت اضطراب کی حالت میں مجھ سے کہنا شروع کیا کہ اُٹھو جلدی اُٹھو۔یہاں سے نکل جائیں۔چنانچہ میں بھی خواجہ صاحب کی حالت دیکھ کر گھبرا گیا۔اور اُن کے پیچھے پیچھے باہر نکل آیا۔باہر نکل کر خواجہ صاحب نے مکان کا رستہ تو نہ لیا۔ایک ایسی سڑک پر سراسیمگی کی حالت میں چلتے گئے۔جو دریا پار ایک کھلے علاقہ کی طرف جاتی تھی۔کوئی نصف میل تک جا کر اُن کی طبیعت سنبھلی تو اُنہوں نے مجھ سے دریافت کیا۔تم کچھ سمجھے میری پریشانی کی کیا وجہ تھی ؟ میں نے کہا۔مجھے تو یہی خیال ہوتا ہے کہ شاید آپ کو سردی سے کچھ تکلیف ہو گئی۔خواجہ صاحب نے کہا نہیں مجھے سردی سے تو اِس مُلک میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔میں تو اس منظر کو دیکھ کر ڈر گیا تھا۔کیونکہ مجھے اپنا ایک خواب یاد آ گیا تھا۔خواجہ صاحب نے کہا کہ یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب مئی ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے مکانوں میں لا ہو ر ٹھہرے ہوئے تھے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے اور مولوی محمد علی اور تین چار اور لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اور ہم سے کہا گیا ہے کہ تم لوگوں نے بغاوت کی ہے۔تمہیں بادشاہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔چنانچہ ہمیں ایک ایسے کمرہ میں لے جایا گیا جو چیف کورٹ کے فرسٹ بینچ کے کمرے کی طرح ہے۔اور اس کے ایک طرف ایک چبوترے پر تخت بچھا ہوا ہے۔جس پر بادشاہ بیٹھا ہے۔میں