اصحاب احمد (جلد 11) — Page 34
34 " ہمارے ہاں بہت عمدہ اچار موجود ہے۔” جب والد صاحب کچہری سے واپس آئے تو انہوں نے والدہ صاحبہ سے دریافت کیا۔” کیا آپ میرزا صاحب کی زیارت کے لئے گئے تھے؟‘ والدہ صاحبہ نے جواب دیا۔’گئی تھی۔والد صاحب نے پوچھا۔” بیعت تو نہیں کی ؟“ والدہ صاحبہ نے سینہ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔الحمد للہ کہ میں نے بیعت کر لی ہے۔اس پر والد صاحب نے کچھ رنج کا اظہار کیا۔والدہ صاحبہ نے جواب دیا کہ یہ ایمان کا معاملہ ہے۔اس میں آپ کی خفگی مجھ پر کوئی اثر نہیں کر سکتی۔اگر یہ امر آپ کو بہت ناگوار ہے۔تو آپ جو چاہیں فیصلہ کر دیں۔جس خدا نے اب تک میری حفاظت اور پرورش کا سامان کیا ہے ، وہ آئندہ بھی کرے گا۔محترم چوہدری صاحب سے آپ کی گفتگو اور ان کی بیعت سے قبل دونوں کا آپس میں سلوک جو رنگ اختیا رکر گیا۔وہ محترمہ کے اپنے الفاظ میں سکنے کے لائق ہے جس سے ظاہر ہے کہ ایمان استقامت کا موجب ہوتا ہے۔فرماتی ہیں: چوہدری صاحب کچہری سے واپس آئے تو حسب دستور السلام علیکم کہا۔اور حال دریافت کیا۔تو میں نے کہا کہ میں بفضلہ تعالیٰ بیعت کر آئی ہوں۔انہوں نے کہا۔کیا سچ سچ ؟ میں نے کہا کہ ہاں سچ سچ۔اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور رسول صلعم کی برکت سے۔تب چوہدری صاحب نے کہا کہ پھر آپ کا اور ہمارا خانہ جدا۔میں نے کہا کہ ہر ایک نے جدا جدا خانے میں ( گویا بعد وفات ) جانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ہم الگ الگ رہیں گے۔میں نے کہا کہ مرنے کے بعد سب نے الگ الگ جگہ ہی رہنا ہوگا۔یہ حال دیکھ کر میری والدہ ڈرگئیں۔میں نے کہا کہ آپ اس بات سے نہ گھبرائیں کہ اگر یہ مجھے گھر سے نکال دیں گے تو میں آپ پر بوجھ بن جاؤں گی۔میں کسی پر بوجھ نہیں ہوں گی۔اللہ تعالیٰ جنگل اجاڑ میں بھی مجھے میری مقدر کی خوراک و پوشاک مہیا کرے گا۔چودھری صاحب مرحوم پاس کھڑے تھے۔انہوں نے بھی یہ بات سُن لی اور حیران تھے کہ میں ان سے ڈرتی کیوں نہیں۔مغرب کے وقت وہ وضو کر رہے تھے ، خادم بستر بچھانے آیا تو انہوں نے اسے کہا کہ میرا بستر ساتھ کے کمرہ میں کرنا۔خادم نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا کہ میں بالا خانہ کے کسی کمرہ میں اپنا بستر نہیں رہنے دوں گی۔کمرہ کی تبدیلی پر کیا اکتفا کرنا ہے منزل ہی تبدیل کر لیں۔چوہدری صاحب