اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 27 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 27

27 اس سلسلہ میں پہلا رویا جو آپ نے دیکھا تھا۔یہ تھا کہ بازار میں بہت رونق ہے۔اور لوگ خوشنما لباس پہن کر کہیں جارہے ہیں۔والدہ صاحبہ نے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ کسی نظارہ کو دیکھنے جا رہے ہیں۔والدہ صاحبہ نے والد صاحب سے کہا کہ آپ بھی اپنی گاڑی تیار کرائیں۔تا ہم بھی جا کر یہ نظارہ دیکھیں چنانچہ والد صاحب نے گاڑی تیار کروائی۔اور یہ دونوں بھی گاڑی میں سوار ہو کر روانہ ہو گئے۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ جب ہم چوہدری محمد امین صاحب ( حال ایڈووکیٹ شیخو پورہ) کے مکان کے مقابل پر پہنچے تو انہوں نے تمہارے والد کو آواز دیکر بلا لیا اور تمہارے والد وہاں رُک گئے اور میں اکیلی اُس میدان کی طرف چلی گئی۔جہاں لوگ جمع ہورہے تھے۔وہاں جا کر میں نے دیکھا کہ خلقت کا بہت ہجوم ہے۔حتی کہ درختوں کی ٹہنیوں سے بھی لوگ لٹک رہے ہیں۔لیکن وسط میں جگہ خالی ہے۔اور ایک جھولا درمیان میں لٹک رہا ہے۔جس کی رسیاں آسمان میں جا کر غائب ہو جاتی ہیں۔اس جھولے پر ایک کپڑا پر دے کے طور پر لٹک رہا ہے۔اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس پر دے کے نیچے کوئی انسان ہے لیکن وہ نظر نہیں آتا۔میدان کے ایک طرف ایک گیلری کے طور پر نشستیں بنی ہوئی تھیں۔جن پر میں نے دیکھا کہ ایک مقام پر دو آدمیوں کی جگہ خالی ہے۔میں وہاں جا کر بیٹھ گی اور خالی حصہ کو بھی روک لیا۔جب کوئی شخص اس حصہ پر بیٹھنا چاہتا۔میں اُسے یہ کہہ کر روک لیتی کہ یہ میرے ساتھی کی جگہ ہے۔میں اس انتظار میں تھی کہ تمہارے والد صاحب آجائیں اور خالی جگہ پر بیٹھ جائیں۔( پھر تھوڑی دیر کے بعد چوہدری صاحب بھی آگئے۔) تھوڑی دیر کے بعد وہ جھولا شرقاً غرباً جھولنا شروع ہوا۔اور اُس سے ایک نور نکلنا شروع ہوا۔جوں جوں جھولا زور پکڑتا تھا۔یہ نور بھی بڑھتا جاتا تھا۔اور جس طرف کو یہ جھولا جاتا۔اُس طرف کے لوگ جوش سے پکارتے تھے : صدقے یا رسول اللہ آخر یہ جھولا اس زور سے جھولنے لگا کہ یوں محسوس ہوتا تھا کہ زمین کے ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک حرکت کرتا ہے۔( تین دفعہ تین مہینوں میں یہ خواب دیکھا۔اور ہر دفعہ میرا دل اس قدر خوش ہوتا تھا کہ میں دن کو بھی آنکھیں بند کرتی تا کہ مجھے پھر وہ نظارہ نظر آئے۔) بقیہ حاشیہ :۔متن میں خطوط وحدانی میں الحکم سے قدرے اضافہ کر دیا ہے۔حلفی بیان میں مرقوم ہے کہ پہلا رویا غالبا ۱۹۰۳ ء کا ہے۔