اصحاب احمد (جلد 11) — Page 26
26 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کا ایک بصیرت کے ساتھ انہوں نے مطالعہ کیا۔اور آپ کی عملی زندگی کا نقشہ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔شہادت دیگر وہ واپس چلے گئے۔مگر دراصل وہ احمدی ہو کر ہی گئے۔اور کچھ عرصہ بعد انہوں نے عملاً بیعت کر لی۔بیعت کر لینے کے بعد ان کی زندگی میں ایک نیا دور شروع ہوا۔وہ سیالکوٹ میں ایک ممتاز ہستی تھے۔اور اپنے پیشہ کے لحاظ سے بہت معروف۔ان ایام میں سیالکوٹ میں لالہ بیلی رام وکیل فوجداری میں اور مالی اور دیوانی میں چوہدری نصر اللہ خاں صاحب سب سے زیادہ قابل اور مشہور تھے۔ان کی پریکٹس نہایت کامیاب پریکٹس تھی۔جیسا کہ میں ذکر کر آیا ہوں سلسلہ میں داخل ہو کر انہوں نے میونسپلٹی کی وائس پریزیڈینٹی سے استعفیٰ دیدیا۔اسکی وجہ ان کی مخالفت نہ تھی۔بلکہ انہوں نے اُس وقت کو بچانے اور سلسلہ کی خدمت کے لئے ایسا کیا۔کچھ شک نہیں۔ان کے احمدی ہونے سے قدرتی طور پر ان کی مخالفت ہونا ضروری تھا۔مگر چونکہ وہ اپنے پیشہ کی قابلیت اور اپنی ذاتی خوبیوں کی وجہ سے ہر دلعزیز تھے۔سلسلہ کے دشمنوں کو افسوس اور رنج ہوا۔اور انہوں نے اپنی تدابیر میں کوئی کمی بھی نہ کی۔مگران کی مخالفت یا منصو بہ بازی چوہدری صاحب پر اثر نہ ڈال سکتی تھی۔چوہدری صاحب نے انتخاب کے جھگڑوں میں پڑنے کی بجائے اس سے علیحدہ ہو جانا ضروری سمجھا۔والدہ ماجدہ کا قبول احمدیت : 6 والدہ محترمہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی تربیت کا ذکر ہو چکا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ہوئی۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی آپ کو حضرت مسیح موعود کا علم اور حضور کی صداقت کے متعلق یقین عطا کیا گیا۔اور اپنے خاوند محترم سے چند روز قبل قبول احمدیت کی توفیق پائی۔جناب چوہدری صاحب تحریر فرماتے ہیں : اس دوران میں والدہ صاحبہ کو احمدیت یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی کا کوئی تفصیلی علم نہیں تھا۔حتی کہ حضور کے نام سے بھی واقفیت نہیں تھی۔۱۹۰۴ء کے دوران میں انہوں نے بعض رؤیا دیکھے جن کی بناء پر انہیں ستمبر ۱۹۰۴ء کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔یہ رویا آپ نے حلفاً لکھوائیں اور الحکم مورخہ ۱۴و۲۱ جنوری ۱۹۳۵ء میں شائع ہوئیں۔