اصحاب احمد (جلد 11) — Page 334
334۔۔۔چوہدری صاحب نے لنڈن سے واپسی پر سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنے ”دار الامان میں پہنچے اور وہاں مسجد میں پہنچ کر اپنا فرض ادا کیا اسے کہتے ہیں قوت ایمان۔۔مسلم لیڈروں میں سے کسی نے نہیں تو چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے جو مثال پیدا کی اسے دیکھ کر یقیناً ہر ہندو لیڈر (مورخه ۱۹۳۳-۱-۲۶ بحوالہ الفضل ۱۹۳۳-۱-۳۱) شرمندہ ہو رہا ہوگا۔“ مؤقر الفضل رقمطراز ہے: وو جناب چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کی شخصیت کیا بلحاظ دینداری،سلسلہ سے محبت اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات سے اخلاص کے اور کیا بلحاظ سیاستدانی۔اہم ملکی امور کو سلجھانے اور مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت میں انتھک سرگرمی اور سعی کرنے کے۔ہماری جماعت کے نو جوانوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اصحاب کے لئے قابل فخر اور لائق رشک شخصیت ہے۔آپ نے جہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک قلیل عرصہ میں ایک طرف سیاسی معاملات میں اپنی اصابت رائے اور اعلیٰ قابلیت کا سکہ بڑے بڑے سیاسی مدبروں کے قلوب پر بٹھا دیا ہے۔اور وہ آپ کی مدلل اور پر زور تقریروں ، پیچیدہ اور لانحل مسائل میں اظہار قابلیت کے متعلق فراخدلی کے ساتھ خراج تحسین ادا کر چکے ہیں۔وہاں باوجود سیاسی امور میں دن رات کے بے حد مصروفیت کے آپ نے مذہبی فرائض کی ادائیگی اور خدمت دین میں حصہ لینے کے متعلق بھی ایسا نمونہ قائم کیا ہے جو بے حد تعریف و توصیف کے قابل ہے۔" آپ جتنی دفعہ گول میز کانفرنس کے سلسلہ میں لنڈن تشریف لے گئے ہیں باوجو دسب ممبران کانفرنس سے زیادہ مشغول ہونے کے اور کانفرنس کے اندر اور باہر انگلستان کے ذمہ وار مدبروں اور سیاستدانوں کو مسلمانوں کے نقطۂ نگاہ سے واقف کرنے میں مصروف رہنے کے ہر بار آپ نے کوشش کی کہ احمد یہ مشن لنڈن اشاعت اسلام کے متعلق جو خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ان میں نمایاں حصہ لیں۔اور اشاعت اسلام کا مقدس فرض ادا کریں۔چنانچہ ان مواقع پر آپ نے بہت سے لیکچر اسلام کی خوبیوں پر احمد یہ مشن لنڈن میں دئے۔نو مسلم انگریزوں کی دینی تعلیم و تربیت میں حصہ لیا اور احمدی مبلغین کو تبلیغی مشن کی ترقی کے متعلق نہایت قیمتی مشورے دئے۔آپ جمعہ اور دوسرے مواقع پر۔نہ صرف خود مسجد احمدیہ میں تشریف لے جا کر نمازیں ادا کرتے اور دینی خدمات میں شریک ہوتے بلکہ اپنے معزز دوستوں کو بھی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کرتے۔غرض ہر ممکن طریق سے آپ