اصحاب احمد (جلد 11) — Page 321
321 میں ارتکاب قتل کی ترغیب یا اس کی جھلک پائی جاتی ہے۔( الفضل ۳۵-۳-۲۲) (۷) احرار کا نفرنس اور اسکے نتائج: ڈیڑھ سال سے باہر سے آمدہ چند احراری قادیان میں فتنہ انگیزی کر رہے تھے۔۱۹۳۴ء کے جلسہ سالانہ پر ایک مولوی کی آمد کی آڑ میں جلوس نکال کر سخت اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے اور نہایت گندہ لٹریچر احمدی خواتین تک میں تقسیم کیا گیا۔حکومت نے ان امور کو نظر انداز کئے رکھا۔بلکہ یہ امور بھی نذر تغافل رہے کہ بعض مقامات ضلع میں احمدیوں کو مجبور کر کے دیہات سے نکال دیا گیا۔زدوکوب کیا گیا۔اور درندہ صفت لوگوں نے ایک احمدی عورت کو بھی لاٹھیوں سے پیٹ۔بعض دیگر اضلاع میں بھی یہ صورت رونما ہوئی لیکن قانون حکومت حرکت میں آیا تو صرف قادیان میں اور وہ بھی احمدیوں کے خلاف اور وہ بھی اس آڑ میں کہ جماعت احمدیہ نے احراری فتنہ انگیزیوں کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایک جلسہ کیا۔اس سے حکومت کو فوراً انقص امن کا خطرہ نظر آنے لگا۔اور قادیان اور ملحقہ دیہات میں ۳۰ / جنوری سے دوماہ کیلئے دفعہ ۱۴۴ شری نگیش ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ گورداسپور کی طرف سے نافذ کر دی گئی۔(الفضل ۳۵-۲-۳) ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں اسکی تنسیخ کی درخواست دی گئی۔اور مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ نے پیروی کی اور چوہدری فتح محمد صاحب سیال ناظر اعلی ، میر قاسم علی صاحب، شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ( رضی اللہ عنہم) اور بعض دیگر معززین کی شہادتیں پیش کیں کہ جس اطلاع کی بناء پر یہ حکم نافذ کیا گیا ہے ، وہ غلط ہے۔اور بتایا گیا کہ احمدیوں کے جلسہ میں نہ کسی حاکم کو گالیاں دی گئیں۔نہ کسی کو قتل کی دھمکی دی گئی اور نہ ہی کوئی اثر تھا کہ بدامنی اور نقص امن کا خطرہ ہوتا۔مکرم شیخ بشیر احمد صاحب نے فاضلانہ تقریر میں بتایا کہ یہ نفاذ سراسر غیر ضروری اور خلاف قانون ہے۔بفرض محال کسی مقرر یا سامعین میں سے کسی کی طرف سے کوئی بات قابلِ اعتراض صادر ہوئی تھی تو اسکے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تھی نہ کہ ساری پبلک کو جائز حقوق سے محروم کر دیا جاتا۔قیام امن کے دیگر ذرائع موجود ہیں۔کافی تعداد میں پولیس کی پون صد نفری اور ایک مجسٹریٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس وہاں موجود ہیں اسلئے نقض امن کا خطرہ نہیں ہوسکتا۔یہ نفاذ جماعت احمدیہ کی امن پسندانہ بے نظیر روایات کے خلاف ایک اقدام ہے۔قادیان چونکہ جماعت احمدیہ کا مرکز ہے اس کا