اصحاب احمد (جلد 11) — Page 225
225 (۳) حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر تفسیر صغیر کے انگریزی ترجمہ کی خدمت کا موقعہ ملا۔(الفضل ۳۱/۲/۵۸)۔بقیہ حاشیہ: - (۲۵) ۲۵/۱۲/۴۴ کو مجلس انصاراللہ کے پہلے سالانہ جلسہ کا افتتاح کیا اور تنظیم کے متعلق تقریر کی۔( ۲۶/۱۲/۴۴٫۱ص۲) (۲۶) سیرۃ النبی کا جلسہ دہلی میں آپ کی صدارت میں منعقد ہوا۔آپ نے ایک پر زور تقریر کی۔( الفضل ۵/۱۲/۴۴ ص ۵ ) * (۲۷) اسلامی سیاست کے اصول پر تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۴۴ء ( //۳۰/۱۲/۴۴ ص ۵اک ۴) (۲۸) طریقہ تعلیم پر جامعہ احمدیہ میں ۱۶/۱۰/۴۵ کو تقریر ہوئی۔جو تینتیس صفحات پر (۳۰/۱۶×۲۰) کے سائز پر طبع ہوئی۔سن طباعت اس پر درج نہیں۔(۲۹) ۲۵/۱۲/۲۵ کو انصار اللہ کے سالانہ اجتماع میں انصار اللہ کے فرائض پر تقریر۔۲۵/۱۲/۴۵/۱ ( ص ۸ و ۱/۴۶ / ۱۰ ص ۳) (۳۰) ۲۷/۱۲/۴۵ کو جلسہ سالانہ میں ”بلا د عر بیہ میں احمدیت کی تاریخ پر تقریر۔(۱۳/۱۲/۴۵ ص۴) (۳۱) اعلان کہ احمدیت کا پیغام نوجوانان عالم کے نام پر مسجد اقصی میں ۲۹/۱۲/۴۵ کو تقریر ہوگی۔(الفضل ۲۵/۱۲/۴۵ ص ۵)۔تقریر ہوئی ہوگی۔لیکن حوالہ نہیں مل سکا۔(۳۲) چوہدری صاحب نے مسئلہ فلسطین پر زیر صدارت ای۔ڈی۔لوکس (وائس پرنسپل فارمن کرسچن کالج لاہور ) ایک نہایت فاضلانہ تقریر میں (جس کا ملخص روزنامہ انقلاب لاہور نے شائع کیا ) بتایا کہ پہلی عالمگیر جنگ کے شروع میں برطانیہ نے جن عرب ممالک سے آزادی کا وعدہ کیا تھا۔فلسطین بھی ان میں شامل تھا۔اور پھر اس کی توثیق یہ کہہ کر کی تھی کہ جنگ کے بعد عرب ممالک میں وہاں کے لوگوں کے مشورہ کے بغیر کوئی حکومت قائم نہیں کی جائے گی۔اعلان بالفور کا یہ مفہوم نہیں تھا کہ وہاں یہودی ریاست قائم ہو جائے گی۔۱۹۳۹ء کا قرطاس ابیض ایک قسم کا آخری فیصلہ تھا جس کی مخالفت میں یہودی حق بجانب نہیں۔شریف مکہ نے جنگ کے بعد عرب ممالک کو آزاد کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔اور یہ مطالبہ عربوں کی زندگی کا جزو اعظم بن چکا ہے۔حکومت برطانیہ نے اس مطالبہ کو پورا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔اور فلسطین بھی ان ممالک میں شامل تھا۔گو یہودی وہاں کی آبادی کا ایک تہائی ہیں لیکن ملک کی اقتصادی زندگی پر چھائے ہوئے ہیں اور ان کا مزید