اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 166 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 166

166 کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز چاہتے ہیں ، جوان تھیں۔آپ حسن تدبر کی مالکہ تھیں۔غیر معمولی انتظامی قابلیت رکھتی تھیں۔میں نے خود دیکھا اور حیران رہ گیا کہ کس عقلمندی سے انہوں نے ایک ساہوکار کو جو ایک مقروض کے مال مویشی پر قبضہ کر چکا تھا ،اصل اور قیمت مال مذکورہ سے بھی کم رقم دینے پر رضامند کر لیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی دیگر نعمتوں سے بھی سرفراز کیا ہوا تھا۔دولت و ثروت آپ کے پاؤں چومتی تھی۔ہر طرح کی عزت اور وجاہت حاصل تھی۔اولا د قابل و خدمت گزار تھی۔مگر باوجود اس کے کبر و رعونت کا آپ میں نام تک نہ تھا۔لباس، بول چال ، سلوک طرز عمل اور آپ کی ہر حرکت آپ کے مومنانہ انکسار کی مظہر تھی۔جمعہ کا روز تھا۔میں نماز کے بعد باہر تبلیغ کے لئے نہ گیا۔گھر میں ہی۔۔۔رپورٹ تحریر کر رہا تھا۔حضرت پھوپھی صاحبہ گرمی کا خیال فرماتے ہوئے اس کمرہ میں تشریف لے آئیں اور ہاتھ میں پنکھا لے کر ہلانے لگ گئیں۔میں نے نہایت ادب سے روکنا چاہا۔اور خصوصاً جب میں نے دیکھا کہ آپ پنکھے کو اپنی طرف جنبش شاذ ہی دیتی ہیں۔اور ان کی خواہش ہے کہ مجھے ہی ہوا دیں۔تو میں نے با اصرار درخواست کی کہ آپ تکلیف نہ اٹھا ئیں۔لیکن آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا۔”بیٹا تم دین کا کام جو کر رہے ہو۔اللہ اللہ کس قدر انکسار اور سلسلہ کے ایک ادنی ترین مجاہد سے اس کے دینی مشاغل کے باعث کس قدر محبت کا مظاہرہ تھا۔بیواؤں اور یتامی کی امداد و نگہداشت آپ کا ایک دلپسند مشغلہ تھا۔اپنے دورانِ قیام میں میں نے آپ کو بڑے انہماک سے ایک یتیم لڑکی کا جہیز تیار کرتے دیکھا۔آپ خود اپنے دست مبارک سے اسکے کپڑوں کو گوٹہ لگاتی تھیں۔ان دنوں ایک یتیم لڑکے کی شادی کا موقعہ بھی پیش آگیا۔آپ نے اس کے گھر والوں کو ہدایت کی کہ وہ کفایت شعاری سے کام لیں۔فضول خرچی سے لڑکے کو مقروض نہ بنا ئیں اور اپنی طرف سے انہیں بہو کے لئے عروسی جوڑ ا عنایت فرمایا۔آپ نیکی کرنے میں اپنے پرائے ، دشمن اور خیر خواہ کا امتیاز نہ فرماتی تھیں۔آپ کے احسانوں کے نیچے اپنوں ہی کی گردنیں دبی ہوئی نہ تھیں بلکہ دشمن بھی زیر بار احسان تھے۔ان کی اذیتوں اور بدسلوکیوں کا جواب آپ حسنِ سلوک ، اور احسان سے دیتیں۔بے شک احمدیت کی یہ مایہ ناز خاتون ہم سے جدا ہو کر اپنے مولا کی آغوش میں چلی گئی ہیں۔لیکن میں یقین رکھتا ہوں کہ زمانہ آپ کی نیکیوں کے نقوش کو ہمارے سینوں سے محو نہیں کر سکے گا۔اور