اصحاب احمد (جلد 11)

by Other Authors

Page 4 of 407

اصحاب احمد (جلد 11) — Page 4

4 یہ زمانہ حضرت چوہدری صاحب کے سسرال میں نسبتاً خوشحالی کا زمانہ تھا جبکہ انکے اپنے گھر میں نسبتا تنگی کا زمانہ تھا۔نکاح کے وقت ابھی دونوں بچے ہی تھے۔رخصتانہ نکاح کے چند سال بعد ہوا۔جب آپ کی اہلیہ محترمہ نے سسرال آنا جانا شروع کیا ، آپ لاہور اور ینٹیل کالج میں پڑھا کرتے تھے۔اور اس زمانہ کی معاشرت کے مطابق مرحومہ کو اپنا تمام وقت اپنی ساس صاحبہ کی ہدایات کے ماتحت گزارنا پڑتا تھا۔یوں تو ان دونوں کی آپس میں قریبی رشتہ داری تھی۔لیکن یہ زمانہ مرحومہ کے لئے کافی سختی کا زمانہ تھا۔ان کی طبیعت بچپن سے بہت حساس تھی۔اور ان کی صحت بھی اچھی نہیں رہتی تھی۔اس لئے سسرال کی رہائش کا زمانہ اُن کے لئے اور بھی دوبھر ہوا کرتا تھا۔چوہدری صاحب کو طالب علمی کی وجہ سے بہت کم عرصہ گھر پر رہنے کا موقعہ ملا کرتا تھا اور ان سے جدائی مرحومہ کو بہت شاق تھی۔لیکن یہ سب کچھ انہیں خاموشی سے برداشت کرنا پڑتا تھا۔چوہدری صاحب کے والد صاحب اپنی بہو سے بہت شفقت اور ہمدردی سے پیش آتے تھے۔لیکن ان سے کسی قسم کی تکلیف کا بیان کرنا بہو کوطبعا گوارا نہ تھا۔طالب علمی کے حالات :۔حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کی طبیعت بھی بہت نازک اور حساس تھی۔اور والد صاحب سے انہیں بہت حجاب تھا۔فرماتے تھے کہ میں نے اپنے والد صاحب کے ساتھ نہ کبھی بے تکلفی سے کلام کیا تھا اور نہ کبھی سیر ہو کر اُن کے چہرہ کو دیکھا تھا۔ایک دفعہ کسی تقریب پر والد صاحب نے مجھے لاہور سے بلا بھیجا۔میں نے جواب میں لکھا کہ اس وقت آنے سے میری پڑھائی میں ہرج ہو گا۔اب آئندہ تعطیلات میں ہی آنا ہو سکے گا۔جب تعطیلات کے موقعہ پر گھر آیا تو والد صاحب نے والدہ صاحبہ کو مخاطب کر کے فرمایا۔اب کس نے بلایا تھا ؟ میں نے بھی یہ فقرہ سُن لیا۔جو نہی موقعہ ملا۔میں نے اپنا سامان باندھ لیا اور واپس لاہور روانہ ہو پڑا۔پاس خرچ بھی کافی نہیں تھا۔ڈسکہ سے گوجرانوالہ ۱۵ میل کا فاصلہ سامان سر پر اُٹھائے ہوئے پیدل گیا۔گوجرانوالہ سے شاہدرہ تک ریل میں سفر کیا۔اور شاہدرہ سے پھر سامان سر پر اٹھا کر حضوری باغ میں پہنچا جہاں اُن دنوں اور ٹیل کالج کا ہوٹل ہوا کرتا تھا۔اور تعطیلات کا زمانہ بھی لاہورہی میں گزار دیا۔باپ بیٹے نے تو اپنی اپنی الحکم ۳۵ -۱- ۲۸ میں آپ کا بیان ہے کہ نو سال کی عمر میں آپ بیا ہی گئی تھیں۔