اصحاب احمد (جلد 11) — Page 3
3 غالبا ۱۸۶۳ء میں چوہدری الہی بخش صاحب کے ہاں آبائی مسکن دا تا زید کا ( ضلع سیالکوٹ ) میں ہوئی۔قوم باجوہ تھی۔جو سیالکوٹ کی زمیندار اقوام میں نہایت معز زقوم کبھی جاتی ہے۔چوہدری الہی بخش صاحب کی اولاد پانچ بیٹیاں اور ایک بیٹا تھی۔محترمہ حسین بی بی صاحبہ سب سے بڑی تھیں۔چوہدری عبداللہ خاں صاحب مرحوم ( امیر جماعت احمدیہ دا تا زید کا ) چار بہنوں سے چھوٹے اور ایک بہن سے بڑے تھے۔آپ بوجہ اپنے والدین کی پہلی اولاد ہونے کے بچپن سے ہی بہت لاڈلی تھیں۔فرمایا کرتی تھیں کہ وہ زمانہ خوشحالی کا تھا اور چونکہ ( جو خاندان کے سرکردہ تھے ) اُن سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کی ہر خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔اسلئے اوائل بچپن میں اُن کی طبیعت نسبتاً آزاد تھی اور کسی وقت یہ ایساناز یا شوخی کر بیٹھتی تھیں جو اس زمانہ میں تو بچوں کا شعار بن چکی ہے۔لیکن اُن ایام میں ان کی والدہ کے لئے بعض دفعہ پریشانی کا موجب بن جایا کرتی تھی۔لیکن یہ آزادی کا زمانہ اوائل عمر میں ہی نکاح ہونے کی وجہ سے جلد ہی ختم ہو گیا۔دونوں خاندانوں کی پہلے بھی رشتہ داری تھی۔چنانچہ حضرت چوہدری نصر اللہ خاں صاحب کی والدہ محترمہ پناہ بی بی صاحبہ ( جو بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہیں ) اپنی بہو کی حقیقی پھوپھی تھیں، گویا چوہدری صاحب کی شادی اپنے حقیقی ماموں کے ہاں ہی ہوئی تھی۔اور چو ہدری صاحب اپنے بچپن کا بہت سا حصہ اپنے نھیال میں گزارا کرتے تھے۔اور آپ کی ممانی صاحبہ آپ سے بہت پیار کیا کرتی تھیں۔آخر عمر تک جب بھی دونوں کو ملنے کا اتفاق ہوتا تو بہت دیر رات گئے تک دونوں آپس میں باتیں کرتے رہا کرتے تھے۔ممانی صاحبہ ایک نہایت ہی عابدہ ، زاہدہ ، با صبر اور باہمت عورت تھیں۔اس زمانے میں جب دیہات میں عورتوں کی تعلیم کی طرف کوئی توجہ نہیں کی جاتی تھی۔ان کے والد صاحب نے ان کو با قاعدہ طب پڑھوانے کا انتظام کیا تھا۔اور وہ طب میں خاصی مہارت رکھتی تھیں۔چنانچہ ان کی تربیت کا ہی اثر تھا کہ گو آپ کی دختر (اہلیہ چوہدری نصر اللہ خاں صاحب ) طب نہیں پڑھی تھیں۔( نہ صرف یہ کہ علوم مروجہ سے بے بہرہ تھیں بلکہ لکھنا پڑھنا بالکل ہی نہیں جانتی تھیں ) لیکن عام بیماریوں کا رسمی علاج وغیرہ جانتی تھیں۔اور بعض دفعہ تو سخت بیماری کی حالت میں بھی نسخہ تجویز کرنے کی جرات کر لیتی تھیں اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم سے مریض کو شفا بھی عطاء کر دیتا تھا۔الحکم ۳۵-۱-۲۸ میں مندرج آپ کے بیان سے خطوط واحدانی والے حصہ کو زائد کیا گیا ہے۔