اصحاب احمد (جلد 11) — Page 131
131 ہے۔میرا خیال ہے کہ میں قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر شروع کردوں۔اور آپ بخاری اور اس کی شرح۔اگر ہم نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے تعلق رکھنے والے ہیں، یہ ضروری کام نہ کیا تو خدا جانے بعد میں آنے والے کیا کچھ کریں گے۔اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہم جوابدہ ہوں گے۔میں نے عرض کیا کہ تجارت کی جو خستہ حالت ہے مجھے اس کی فکر ہے۔مسکراتے ہوئے فرمایا۔ہم نے آپ کو اس سے آزاد کر دیا ہے۔اس سے زیادہ اور بات مجھ سے نہیں فرمائی۔جب ہم چوہدری صاحب رضی اللہ عنہ کے جنازے اور تدفین سے فارغ ہوئے ، اور میں صدرانجمن کے دفتر میں آیا تو وہاں حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کا حکم پہنچا ہوا تھا کہ مجھے تالیف و تصنیف کے تعلق میں بخاری کا ترجمہ و شرح سپرد کرنے کی آپ کی رائے ہے لیکن صدرانجمن اس بارے میں مجھے مشورہ دے۔چنانچہ اجلاس ہوا۔میں نے بلا دعر بیہ کی تبلیغی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کی کتب کشتی نوح“ اور ”اسلامی اصول کی فلاسفی“ کا ترجمہ ہو چکا ہے۔اور اس کے نسخے وہاں بھیجے گئے ہیں۔اس کے علاوہ حیات و وفات مسیح پر دو تین سو صفحوں کی کتاب عربی زبان میں لکھی گئی ہے۔نیز حقائق احمدیہ پر بھی ایک مختصری کتاب اسی زبان میں لکھی گئی ہے۔میری رائے یہ ہے کہ یہ سلسلہ تصنیف جاری رکھا جائے تا محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس کا جو دمشق میں بطور مبلغ کام کرتے ہیں ، ہاتھ مضبوط ہو۔صدر انجمن نے میری رائے سے اتفاق کیا۔اور اسی کے مطابق حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ کی خدمت میں رپورٹ پیش کی۔جو حضور نے رد کی اور فرمایا۔مقامی مجلس شوری کے ممبروں کو بھی شامل کیا جائے جن میں سے حضرت مولوی سرورشاہ صاحب اور حضرت میر قاسم علی صاحب رضی اللہ عنہما بھی تھے۔میں نے پھر وہی کچھ بیان کیا۔اور اپنے متعلق احساس کمتری اور عدم استطاعت کا احساس غالب تھا۔اور دوسرے اجلاس نے بھی میری رائے سے اتفاق کیا لیکن حضور نے اس فیصلہ کو بھی ردفرمایا۔اور ارشاد ہوا کہ باہر کے دوستوں کو بھی بلا کر ایک بڑا اجلاس کیا جائے۔چنانچہ اس تیسرے اجلاس میں بھی سابقہ رائے مناسب سمجھی گئی۔حضور نے یہ رائے بھی قبول نہیں کی۔اور حکم دیا کہ میں نظارت کے مفوضہ فرائض کو ادا کرتے ہوئے اس کے علاوہ باقی وقت میں یہ کام ساتھ ساتھ کرتا رہوں۔کیونکہ اس کی بہت ضرورت ہے۔اور اب خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے یقین ہوا ہے کہ آپ کی نظر وہ کچھ دیکھتی تھی ، جو ہماری نظریں نہیں دیکھ سکتی تھیں۔اور احباب جنہوں نے طبع شدہ پانچ پارے پڑھے ہیں ، وہ بھی میرے