اصحاب احمد (جلد 11) — Page 115
115 باتوں میں ہی اس کی تسلی کرا دی۔چنانچہ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ میں تو اس شخص کے ساتھ سارا دن مغز کھپا تا رہا۔مگر کوئی اثر نہ ہوا۔آپ نے دو تین منٹ میں ہی اسکی تسلی کرا دی۔آپ سن کر مسکرا دیئے۔(۴) مکرم چوہدری نوراحمد خاں صاحب نے آپ کے ماتحت قریباً دو سال تک کام کیا۔اس عرصہ کے مشاہدات کا خلاصہ آپ بیان کرتے ہیں کہ حضرت چوہدری صاحب نہایت صالح متقی، پرہیز گار اور ولی اللہ تھے۔بہت دعا گو تھے اور نہایت سادہ زندگی کو پسند کرتے تھے۔دفتر بہشتی مقبرہ میں باقاعدہ بیٹھ کر کام کرتے تھے اور ساتھ ساتھ حافظہ سے قرآن مجید بھی حفظ کرتے جاتے تھے۔نماز ظہر کے بعد میرے ذریعہ بھنے ہوئے چنے بازار سے منگوا کر بطور ناشتہ نوش فرماتے اور مجھے بھی ساتھ بٹھا لیتے۔میں نے تقریباً دو سال بطور محرر کے آپ کے ساتھ کام کیا۔ماتحتوں کے ساتھ آپ ہمدردانہ سلوک کرتے تھے۔گو آپ سادہ زندگی بسر کرتے تھے اور کفایت شعار تھے۔لیکن مخیر تھے۔ایک دفعہ فارغ وقت میں اپنے خاندان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ایک لاکھ روپیہ کی جائیدا دخرید کی ہے۔خشیت الہی کیونکر آپ کے قلب صافی پر مستولی تھا۔چوہدری نور احمد خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک روز مسجد مبارک میں نماز ظہر کے بعد حضرت امیر المومنین خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد مبارک میں تشریف فرما تھے۔ضلع سیالکوٹ کے ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور ایک شخص موصی ہے مگر وہ در پردہ اپنی زندگی میں شراب پیتا تھا۔حصہ وصیت ادا کر چکنے کی وجہ سے وہ بہشتی مقبرہ میں دفن ہو جائے تو کیا وہ جنتی ہوگا۔حضور نے فرمایا کہ وہ شخص از روئے رسالہ الوصیت جنتی ہے۔** مگر اس کے افعال کا خمیازہ انچارج بہشتی مقبرہ کو اٹھا نا پڑے گا۔کیونکہ دفن کرنے سے پہلے منتظم بہشتی ☆☆ محترم چوہدری نور احمد خان صاحب کا اصل وطن سر وعہ ضلع ہوشیار پور ہے۔آپ بفضلہ تعالیٰ صحابی ہیں اور عرصہ تک مختلف اسامیوں پر دفاتر صدرانجمن احمد یہ قادیان در بوہ میں کام کرنے کے بعد اب پنشن پر ہیں اور ملتان شہر میں قیام رکھتے ہیں۔یعنی لازماً اس کا انجام بخیر ہوا ہوگا اور اسے توبہ کی توفیق ملی ہوگی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور بہشتی ہونے کا اہل ہوا۔تو بہ کا تعلق دل سے ہے، البتہ ذمہ دار احباب کی طرف سے ظاہری امور کی پابندی ضروری ہے اور اس میں غفلت نہیں ہونی چاہیئے۔