اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 498 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 498

498 شام کو انتقال فرمایا۔آپ حضرت مسیح موعود کے اولیس خدام میں سے تھے۔ازالہ اوہام اور دوسری کتب میں آپ کا ذکر بھی ہے سلسلہ سے بے حد محبت تھی۔آپ ۳۱۳ اصحاب میں سے تھے۔مقدمات اور بہت سے مباحث وغیرہ میں حضرت مسیح موعود کے ساتھ رہے۔حضرت مسیح موعود کا ذکر آتے ہی رونے لگ جاتے۔آپ حضرت مسیح موعود کے عاشق صادق تھے آپ رفاہ عام کے کاموں اکثر حصہ لیتے تھے۔نیز حکام ریاست میں بڑی عزت تھی۔علاقہ بھر کے لوگ آپ کا احترام کرتے تھے۔“ اس اعلان کے بعد موقر الفضل نے تحریر کیا :- ہمیں جناب منشی صاحب کی وفات کا سخت صدمہ ہے ہم انکے سارے خاندان سے اس رنج افزا صدمہ میں اظہار ہمدردی کرتے ہیں۔اور دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ دے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کی طرف سے اعلان ہوا کہ۔(۱۲۹) " حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے اور مخلص خادم جناب منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پورہ کی وفات کی افسوس ناک خبر الفضل میں شائع ہو چکی ہے۔۔۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی طرف سے اعلان کیا جاتا ہے کہ منشی حبیب الرحمن صاحب حضرت مسیح موعود کے پرانے مخلصین اور سابقون میں سے تھے۔بیرونی جماعتیں اگر ان کا جنازہ پڑھیں تو یہ سابقون کے اعزاز کے لحاظ سے محمد مناسب وموجب رضائے الہی ہوگا۔جے نماز جنازه و تدفین ☆ منشی کظیم الرحمن صاحب تحریر کرتے ہیں کہ والد صاحب ہمیشہ ہم سب کو اور خصوصا والدہ صاحبہ کو فرماتے تھے کہ میری نماز جنازہ ہمارے ماموں الفضل ۱۸؍ دسمبر ۱۹۳۰ء شیخ عبدالرحمن صاحب بیان کرتے ہیں۔کہ اس سال جلسہ سالانہ کے دوران حضور نے جمعہ مسجد نور میں پڑھایا اور منشی حبیب الرحمن صاحب اور چند احباب کا جنازہ غائب بھی پڑھایا اور اعلان میں فرمایا کہ منشی صاحب السابقون الاولون اور تین سو تیرہ صحابہ میں سے تھے لیکن اس جنازہ پڑھانے کا الفضل میں ذکر نہیں ہوا۔خاکسار مؤلّف عرض کرتا ہے کہ یہ بات درست ہوگی کیونکہ حضور نے بیرونی جماعتوں کو ان کے السابقون اور پرانے مخلصین میں سے ہونے کی وجہ سے جنازہ غائب پڑھنے کی تلقین کی تھی بظاہر یہ امکان نہیں تھا کہ حضور خود جنازہ نہ پڑھاتے۔