اصحاب احمد (جلد 10) — Page 497
497 صاحب کپور تھلوی کبھی تشریف لاتے تو حضور کی تازہ ملاقاتوں کا تذکرہ فرماتے اور کر دیں بھیں کی طرف سے دائر شدہ مقدمات کے بارے میں بھی لوگوں کی چہ میگوئیوں کے تذکرے فرماتے اور خاکسار سے جو بچہ تھا، خوش خلقی سے پیش آتے تھے۔آپ کے پاس حضرت مسیح موعود علیہ السلام و بزرگان سلسلہ کی جملہ کتب اور اخبارات سلسلہ احکام، البدر، ریویو آف ریلیجنز اردو، انگریزی کی سال وار جلدیں، نہایت شوق و احتیاط کے ساتھ ایک الماری میں محفوظ تھیں جو وسیع بیٹھک میں تھی اور اس کے قریب ایک تخت پوش ہوتا تھا۔جس پر سفید چاندنی بچھی ہوتی تھی۔تا کہ اس پر بیٹھ کر مطالعہ کیا جاسکے آپ اپنے بچوں کے ہمراہ مسجد میں نماز با جماعت ادا کرتے تھے۔اس زمانہ میں آپ کے مقدمات آپ کے بعض مزارعان سے ہو رہے تھے آپ کو قانونی واقفیت پوری طرح حاصل تھی اور مقدمات کی تحریرات آپ خود اپنے قلم سے تیار کرتے تھے۔آپ کا املاء وانشاء اعلیٰ درجہ کا تھا۔آپ کا وکیل جو ہندو تھا آپ کی قانونی واقفیت کا معترف تھا۔منشی صاحب کا انتقال پر ملال حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب کو آخری ایام میں دینوی معاملات انتظام وانصرام جائیداد وغیرہ سے ایک گونہ انقباض محسوس ہوتا تھا۔اور ان میں آپ بہت کم توجہ دیتے تھے۔اور یا دالہی مصروف رہتے تھے۔انتقال کے روز صبح آپ نے صفائی کا خاص اہتمام کیا۔نیا برش اور نیا منجن منگوا کر دانت صاف کئے سامان نکلوا کر اپنا کمرہ صاف کروایا۔اور وہاں اگر بتی جلوئی اپنا پلنگ اور بستر صاف کروا کے شام کو چار بجے اس پر لیٹ گئے آپ کو کچھ عرصہ سے شام کو سردی سے تپ ہو جاتا اور رات کو پسینہ آ کر اتر جا تا تھا۔اس روز پلنگ پر لیٹے تو طبیعت میں گھبراہٹ پیدا ہوئی اس پر دوسروں کو مختلف خیال پیدا ہوئے مثلاً یہ کہ تپ کا وقت ہے یا یہ کہ چائے چھوڑنے یا فلاں شے نہ کھانے کی وجہ سے جس کی عادت تھی یا صبح سے پان نہیں کھا یا لیکن پیش کرنے پر آپ نے کوئی چیز قبول نہ کی آپ کے منہ سے اللہ ھو اللہ ھو کے ورد کے سوا کچھ نہ نکلتا تھا۔بالآ خر آپ بتاریخ یکم دسمبر ۱۹۳۰ء بروز دوشنبه ساڑھے پانچ بجے شام بعمر تریسٹھ سال اپنے معبود حقیقی کے حضور حاضر ہوگئے انا للہ وانا اليه راجعون مولوی محب الرحمن صاحب کی طرف سے درخواست دعائے مغفرت کے ساتھ یہ اعلان ہوا: - (۱۲۸) ” میرے والد حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس حاجی پورہ ریاست کپورتھلہ نے یکم دسمبر ۳۰ ء کی