اصحاب احمد (جلد 10) — Page 480
480 (109)66 روپیہ جمع ہو گیا تو تمیں ہزار کا جمع ہونا کیا مشکل ہے۔(۱۰۹) حضور کی تحریک ابھی الفضل کے ذریعہ بیرون قادیان نہیں پہنچی تھی کہ ۱۰ار جنوری ۱۹۲۰ء کومحترم منشی حبیب الرحمن صاحب نے اس بارے میں ایک مفصل و مؤثر تحریک الفضل کے لئے رقم کی اور اس میں لکھا کہ گوا بھی تک قادیان سے باہر اس چندہ کی تحریک شروع نہیں ہوئی لیکن ہم کیوں اس دن کا نتظار کریں جب ہم کو چندہ کے واسطے کہا جاوے اور اس طرح ثواب کی وقعت کو کم کریں۔“ اور احباب کو تلقین کی کہ صحابہ کرام کے مثیل بن کر قربانی کریں اور ابتدائے مضمون میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذیل کے اشعار درج کئے اور بتایا کہ جس وقت حضور نے یہ اشعار لکھے تھے اس وقت وہاں مسلمان موجود نہ تھے۔اور اب یہ پیشگوئی پوری ہونے لگی ہے اور لوگ اسلام میں داخل ہور ہے ہیں اور وہاں اسلام کا جھنڈا ہے سے مستانہ وار گاڑا جا چکا ہے۔۔کیوں عجب کرتے ہو گر میں آگیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ بادِ بہار آسماں پر دعوت حق کیلئے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگہ زندہ دار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جاں نثار باغ میں ملت کے سے کوئی گل رعنا کھلا آئی ہے باد صبا گلزار آ رہی ہے اب تو خوشبو میرے یوسف کی مجھے گوکہو دیوانہ میں کرتا ہوں اس کا انتظار ہر طرف ملک میں ہے بت پرستی کا زوال کچھ نہیں انساں پرستی کوکوئی عز و وقار آسماں سے ہے چلی توحید خالق کی ہؤا دل ہمارے ساتھ ہیں گو منہ کریں۔۔۔۔۔۔ہزار اسمعوا صوت السماء جاء المسيح جاء المسيح نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار ہے قلمی خدمات منشی حبیب الرحمن صاحب کو متعدد قابل قدر قلمی خدمات سرانجام دینے کی توفیق عطا ہوئی۔مثلاً : (۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مکتوبات کی نقول میر عباس علی صاحب لدھیانوی کو بھجوایا کرتے الفضل ۲ فروری ۱۹۲۰ء ( صفحہ ۸ و۹) اس مضمون کے آخر میں درج ہے کہ میں فی الحال پچاس روپے دنیا کے مرکز لندن میں تعمیر مسجد کے لئے دیتا ہوں اس کے دینے کا ذکر الفضل بابت فروری ۱۹۲۰ء میں بھی صفحہ ۱ کالم ۲ پر ہے۔