اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 474 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 474

اور لکھا کہ 474 در مجلس منتظمہ دعا کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہمتوں میں برکت دے اس سلسلہ میں منشی حبیب الرحمن صاحب رئیس و نمبردار حاجی پور کے بارے لکھتے ہیں کہ ” (انہوں نے ) اپنی ہمت اور طاقت سے بڑھ کر امداد کی یعنی ہیں روپے اپنی طرف سے اور پانچ روپے اپنی اہلیہ کی طرف سے دیئے * (۷) قابل تقلید نمونہ اخبارات ورسائل سلسلہ احمدیہ کی خریداری قبول کرنا۔ان کے لئے خریدار مہیا کرنا، مالی اعانت مہیا کرنا اور اعانت کا کوئی طریق نکالنا اور احباب میں خریداری کے بارے تلقین کرنا۔خصوصاً ابتدائی زمانہ میں جبکہ جماعت قلیل التعداد اور قلیل الوسائل تھی ، ایک عظیم خدمت تھی۔موقر الحکام کو سلسلہ احمدیہ کے اولین اخبار اور ترجمان ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس کو اور بعد میں جاری ہونے والے بدر کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دوباز و قرار دیا۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی جیسے صاحب عزم نے الحکم کو شدید نا موافق حالات میں جاری رکھا۔الحکم، ارجنوری ۱۹۰۱ء (صفحہ ۱۰) دیگر تین احباب سے ایک آنریبل خلیفہ محمد حسین صاحب ممبر کونسل پٹیالہ تھے۔جنہوں نے اس وقت بھی اس نمائندہ کو پچاس روپے دیئے تھے۔جبکہ اسی ماہ میں اسی مدرسہ کو وہ ایک خطیر اور گرانقدر رقم عطا فرما چکے تھے۔تیسرے اہلیہ مشی عزیز الرحمن صاحب کپور تھلہ جنہوں نے اپنا زیور ہیں عدد چوڑیاں فی سبیل اللہ پیش کر دی تھیں۔اس وقت مدرسہ کی امداد کی اہمیت جس قدر تھی وہ اس امر سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس نے احباب کو یہ تحریک کی تھی کہ تقریب عید پر ہر احمدی ایک ایک روپیہ اس مدرسہ کی اعانت کے لئے دے (صفحہ ا ا کالم ا) الحکم بابت ارجنوری میں جس اعانت کا ذکر ہے کہ بذریعہ مرزا خدا بخش صاحب وصولی ہوئی تھی اس کی وصولی دسمبر ۱۹۰۰ میں ہوئی تھی۔اور اس کی اسم وار تفصیل الحکم بابت ۲۴ جنوری ۱۹۰۱ء میں صفحہ ۱۶ کالم ۲ میں ہوئی زیر روز نامچه آمد مدرسہ تعلیم الاسلام میں مرقوم ہے الحکم بابت ۲۴ فروری ۱۹۰۱ء کے مطابق منشی صاحب اور آپ کی اہلیہ صاحبہ نے اسی ماہ جنوری میں اعانت مدرسہ کے لئے مزید دو روپے بھی دیئے تھے۔(صفحہ ۱۶ کالم ۳) اس فہرست کے مطابق پانچ افراد ایک ایک روپیہ سے کم ، پچاس افراد نے ایک ایک روپیہ اور قریباً اڑہائی درجن نے ایک روپیہ سے زیادہ چندہ دیا نیز اسی سال میں منشی صاحب اور ان کی اہلیہ صاحبہ نے تین روپے مساکین فنڈ میں دیئے تھے۔(احکم ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۶ کالم او۲)