اصحاب احمد (جلد 10) — Page 455
455 ہوتا۔پہلے بھی بحیثیت پریذیڈنٹ صدرانجمن ہونے کے وہ جملہ ممبران پر فوقیت رکھتے تھے۔اور آپ میاں صاحب کو اپنا اور قوم کا امیر تسلیم فرمانے کو تیار بھی ہیں۔پھر میں سمجھ نہیں سکا اب کیا بات باقی رہ گئی ہے۔پھر میں عرض کرتا ہوں کہ آپ کیوں اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد علیحدہ بنانا چاہتے ہیں صدر انجمن موجود ہے کسی نے آپ کو اس میں کام کرنے سے نہیں روکا مجلس شورای اگر با قاعدہ کرنی ہے۔تو ماتحت انجمنوں کو آپ شامل کریں ورنہ یہ مجلس شورای جو آپ نے کی آپ کی ذاتی ہے نہ کہ سلسلہ کی۔مجھے خیال گزرتا ہے کہ آپ نے خواجہ کمال الدین صاحب سے بھی غالباً مشورہ نہیں کیا جو شاید ممکن نہ تھا۔آخر میں آپ صاحبان سے عرض کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے دوبارہ غور کرو اور وہ راہ اختیار کرو جس میں ی فتنہ فرد ہوا اور قوم کوکلمہ واحد پر جمع کرنے کی کوشش کر و حضرت خلیفتہ المسیح مرحوم نے سچ فرمایا کہ یا درکھو کہ ساری خوبیاں وحدت میں ہیں۔جس ( قوم کا ) کوئی رئیس نہیں وہ مر چکی۔“ مولا نا ! شورای جو آپ کو کرنا چاہیئے تھا اور جس کی میں نے تائید کی ہے۔اس میں تو فقط یہ طے کرنا تھا کہ کیا حضرت صاحبزادہ صاحب سے یہ جزوی اختلاف رکھ کر ہم کو بیعت کر لینے میں حرج تو نہیں اور کیا صاحبزادہ صاحب اس کو قبول کر لیں گے۔وفد کے بھیجنے کی بھی اصل غرض یہی ہونی چاہیے تھی مگر افسوس ہے آپ لوگوں نے راہ ترکستان اختیار کر لی وحدت کے لئے خلیفہ کی ضرورت ہے انجمنوں کے ذریعہ سے وحدت نہیں رہ سکتی، اور منہاج نبوت پر جو سلسلے ہوں وہ انجمنوں کے طریق پر چل نہیں سکتے کیونکہ خدا ایک شخص کو مامور کر کے بھیجتا ہے اس نے کبھی کسی انجمن کو نبی نہیں بنایا۔بہر حال آپ خدا کے لئے اس حبل اللہ سے الگ نہ رہو تم اس کے دامن کے ساتھ وابستہ ہو جاؤ۔اس میں خیر وبرکت ہے۔آپ کا نیاز مند - حبیب الرحمن از حاجی پورہ - (۹۱) (۴) خلافت ثانیہ میں اولیس شورای : مولوی محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جماعت احمدیہ کے خیالات کو مسموم کرنے کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔مضامین لکھے۔مختلف مقامات پر جا کر تقاریر کیں۔بالآ خر اعلان کیا کہ قادیان میں چندہ نہ بھجوایا جائے۔لاہور میں ایک انجمن قائم کی اور وہ اس کی شاخیں قائم کرنے کی فکر میں ہیں۔اور ان کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ چندہ کے اموال قادیان میں خطرہ میں ہیں۔جبکہ جماعت میں تفرقہ پیدا کیا جاتا تھا۔اور مرکزی کام کے لئے روپیہ مطلوب تھا۔حسب ارشاد حضرت خلیفہ ثانی ایک نیابتی (یعنی جماعتوں کے نمائندگان پر مشتمل) جلسہ طلب کیا گیا تا کہ نظام سلسہ اور اس کے بعض