اصحاب احمد (جلد 10) — Page 404
جواب 404 میں نے اطلاع پانے کے بعد آپ کے لئے مع عزیز ان کے دعا کردی ہے دستخط خدا تعالے قبول فرمادے۔آمین گوان الفاظ نے میرے دل پر بہت اثر کیا اور اطمینان ہوا مگر قبولیت دعا ایک اور عجیب طریق سے معلوم ہوئی۔وہ یہ کہ میری رعایا میں سے ایک مسمی روڈ اولد النہیا ارائیں سکنہ حاجی پور، عمر قریباً پینسٹھ سال اپنے کھیت میں پلنگ پر سویا ہوا تھا اس کا سر غرب کی طرف تھا۔اور (وہ) تنہا تھا۔چاند کی چاندنی تھی۔رات کو قریباً تین بجے کسی شخص نے جو خدا کا فرشتہ تھا سرہانہ کی طرف سے آواز دی کہ او بز رگا ! تو سوتا ہے یا جاگتا ہے؟ اس شخص ( روڈا ) نے جواب دیا کہ جاگتا ہوں اس نے پھر دریافت کیا کہ سوتا ہے یا جاگتا ہے؟ اس نے کہا کہ جاگتا ہوں۔پھر کہا اچھی طرح سے سن۔اس نے کہا کہ اچھا جی پھر اس نے کہا کہ ”میاں حبیب سے کہدینا کہ زیادہ اندیشہ نہ کرے۔تیرے پیڈ وچ پلیگ نہیں ہوگی۔“ اس نے جواب دیا اچھا جی۔اس نے دریافت کیا کہ سن لیا ہے؟ یاد کر کے کہہ دینا روڈا نے کہا کہ اچھا جی۔اس کے بعد یہ آدمی (یعنی روڈا) متعجب ہو کر اٹھا اور دیکھا تو کوئی ( بھی موجود ) نہ تھا۔پھر دور تک نظر دوڑائی مگر کسی کو نہ دیکھا۔پھر خود ہر طرف بھاگ دوڑ کر تلاش کی مگر پتہ نہ لگا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا فرشتہ تھا۔اس (روڈا) نے کسی دوسرے آدمی کو یہ (بات) سنائی کہ میاں (حبیب الرحمن صاحب) سے کہ دینا۔مجھے شرم آتی ہے۔جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے اسے بلا کر سنا۔حضور کا خط متذکرہ (بالا) آچکا تھا میں نے اس واقعہ اور خط کی تاریخ کا مقابلہ کیا تو ایک تھی۔یعنی ۷ ا پریل ۱۹۰۶ ء دن کو حضور نے تحریر فرمایا تھا اور دعا کی تھی اور رات کو یہ واقعہ ہو ا جس طرح کسی کو خط لکھا جائے اور اس خیال سے کہ خط دیر میں پہنچے گا۔تار بھی دے دیا جائے۔اس سے معلوم ہوتا ہے (کہ) حضرت ربّ العزت نے دعا قبول فرمائی وہ خط میرے پاس موجود ہے۔ایک اور بات ہے کہ میں نے عرض کیا تھا کہ میرے اور میرے کنبہ اور رعایا کے واسطے دعا کریں (حضور کی ) دعا کے وقت رعایا شامل نہ تھی جیسا کہ حضور کے الفاظ سے ظاہر ہے اس سال تو بالکل امن رہا۔یعنی کا شتکاران (مؤلف) پنڈ وچ پنجابی الفاظ ہیں یعنی گاؤں میں