اصحاب احمد (جلد 10) — Page 395
395 مباہلہ کے بعد گویا ہماری جماعت میں ایک اور عالم پیدا ہو گیا ہے۔میں اکثر کو دیکھتا ہوں کہ سجدہ میں روتے اور تہجد میں تضرع کرتے ہیں۔نا پاک دل کے لوگ ان کو کافر کہتے ہیں۔اور وہ اسلام کا جگر اور دل ہیں۔”اب ہمارے مخالفین کو سوچنا چاہیے کہ اس باغ کی ترقی اور سرسبزی عبدالحق کے مباہلہ کے بعد کس قدر ہوئی ہے۔یہ خدا کی قدرت نے کیا ہے۔جس کی آنکھیں ہوں وہ دیکھے۔ہماری امرتسر کی مخلص جماعت ، ہماری سیالکوٹ کی مخلص جماعت ، ہماری کپورتھلہ کی مخلص جماعت، ہماری ہندوستان کے شہروں کی مخلص جماعتیں وہ نو را خلاص اور محبت اپنے اندر رکھتی ہیں کہ اگر ایک بافر است آدمی ایک مجمع میں ان کے منہ دیکھے تو یقینا سمجھ لے گا کہ یہ خدا کا ایک معجزہ ہے جو ایسے اخلاص ان کے دل میں بھر دیے۔ان کے چہروں پر ان کی محبت کے نور چمک رہے ہیں وہ ایک پہلی جماعت ہے جس کو خدا صدق کا نمونہ دکھلانے کے لئے طیار کر رہا ہے۔جماعت احمدیہ کے بنیادی احوال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک سولہ صفحات کے مفصل اشتہار میں ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء کو حکومت کے لئے اپنی جماعت کے حالات بیان کرتے ہوئے رقم فرمایا ہے کہ۔میں ایک نئے فرقہ کا پیشوا اور امام ہوں جو پنجاب اور ہندوستان کے اکثر شہروں میں زور سے پھیلتا جا رہا ہے۔اور بڑے بڑے تعلیم یافتہ اور رؤسا فقیر ہم کا ایک گروہ کثیر اس میں شامل ہو گیا ہے۔چونکہ ہر نئے فرقہ کے اندرونی حالات کے بارے جاننے کی ضرورت گورنمنٹ کو ہوتی ہے۔اور امکان ہے کہ مخالفین کی طرف سے خلاف واقعہ خبریں پہنچانے سے حکومت بدظنی کی طرف مائل ہو اس لئے میں نے قرین مصلحت سمجھا کہ اپنی جماعت کے حالات سے لیفٹینٹ گورنر صاحب پنجاب کو آگاہ کروں۔ہماری جماعت جاہلوں اور وحشیوں کی جماعت نہیں۔نہ باغیانہ خیالات رکھتی ہے۔پادریوں نے نہایت دلآزار حملے کئے اور توہین آمیز اور فتنہ انگیز کتابیں مثل ” امہات المؤمنین یعنی دربار مصطفائی کے اسرار شائع کر کے مسلمانوں میں کثرت سے پھیلا کر دل آزاری کی لیکن ہم حکومت کے مساویانہ سلوک کو قابل تعریف یقین جانتے ہیں کہ باوجود حکومت کے عیسائی ہونے کے ہمیں پورے طور پر مدافعت اسلام کی گویا مذہبی آزادی حاصل ہوئی۔اور حکومت نے پادریوں کا پاس نہیں کیا۔انجام آنتم ضمیمہ روحانی خزائن جلدا اصفحہ ۳۱۵۔اس ضمیمہ میں حضرت اقدس نے تین سو تیرہ مخلص صحابہ امثال صحابہ بدر کی فہرست شامل فرماتی ہیں۔جس میں منشی صاحب اور دیگر اصحاب کپورتھلہ کے اسماء بھی درج ہیں۔