اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 394 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 394

394 گے۔بحث کب ہوگی؟ مولویوں نے کھیسانے ہو کر کہا کہ ہم مشورہ کر رہے ہیں آپ تسلی رکھیں۔تھوڑی دیر میں ہم آپ کو اطلاع دیں گے۔خواجہ صاحب چلے گئے اور مولویوں میں یہ مشورہ ہوا کہ ایک اشتہار چھپوالو کہ مرزا صاحب نے بحث نہیں کی اور بھاگ گئے اور علماء کے مقابلہ پر نہ آئے جس وقت مرزا صاحب اسٹیشن پر پہنچ جائیں تو اشتہار لگا دوتا ہماری بات بنی رہے۔خواجہ صاحب یہ معلوم کر کے خاموش ہوگئے کہ مولوی بحث نہیں کریں گے اور در حقیقت کر ہی نہیں سکتے۔چنانچہ حضور کی روانگی پر حضور کی سواری (گاڑی ) کے پیچھے پیچھے مولوی صاحبان اس اشتہار کوتقسیم کرتے جاتے اور دیواروں پر بھی چسپاں کرتے اور کہتے جاتے تھے کہ مرزا بھاگ گیا۔بھاگ گیا۔چند روز بعد یہ مولوی جمع ہوئے اور مشورہ کیا کہ مرزا صاحب کے مقابلہ میں کون کھڑا ہو۔اس بارے میں ان میں اتفاق نہ تھا۔ایک نے یہ مشورہ دیا کہ بحث سے انکار نہیں کرنا چاہیئے بلکہ یہ کھو کہ کابل یا مکہ معظمہ ومدینہ منورہ میں چل کر بحث کرنی چاہیئے اس طرح یہ ہوگا کہ نہ وہ وہاں جائیں گے۔نہ مباحثہ ہوگا۔نتیجہ مباہلہ و مباحثہ۔اس مباہلہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت سی برکات سے (۴۸) نواز ا چنانچہ حضور بیان فرماتے ہیں کہ۔آتھم کے بارے میری پیشگوئی پوری ہوئی۔پادریوں اور مولویوں کی عزت میں میرے عربی رسائل سے کمی آئی جو میں نے مباہلہ کے بعد تصنیف کئے تھے۔اس مباہلہ سے پہلے اس سلسلہ کی راہ میں جانفشانی کرنے والے افراد کی تعداد تین چار سو تھی جو مباہلہ کے بعد آٹھ ہزار سے زائد ہوگئی۔موعودہ کسوف و خسوف ماہ رمضان میں وقوع میں آ کر میری عزت کا باعث ہوا اور علم قرآن میں اتمام حجت بھی۔بعد مباہلہ مولوی عبدالحق صاحب نے اشتہار دیا کہ اس کے ہاں لڑکا ہوگا۔لیکن لڑکا پیدا نہ ہوا لیکن میرے اشتہار کے مطابق مجھے شریف احمد بیٹا عطا ہوا۔راستباز بندوں نے میری خدمت کے لئے جو مخلصانہ جوش دکھلایا وہ میری قبولیت و توقیر کا باعث ہوا نیز اس درویش خانہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے مالی فتوحات دیں جو ربانی کام پر صرف ہوئیں۔ست بچن کتاب کی تالیف کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسے سامان عطا کئے جو تین سو برس سے کسی کے خیال میں بھی نہ آئے ہوں گے۔قریباً آٹھ ہزار افراد کا میرے ہاتھ پر تو بہ کر کے بیعت کرنے کا قبولیت کا نشان مجھے عطا ہوا جو رضائے الہی کے بعد حاصل ہوتی ہے۔جلسہ مذاہب لاہور میں مجھے اور میرے مضمون (اسلامی اصول کی فلاسفی ) کو بہت دلی جوش سے اور نگاہ عظمت سے دیکھا گیا سب لوگ بے اختیار بول اٹھے کہ اگر یہ مضمون نہ ہوتا تو اسلام کو مولوی محمد حسین صاحب وغیرہ سے سبکی کا سامنا ہوتا۔دو اسی سلسلہ میں حضور رقم فرماتے ہیں کہ۔میں دیکھتا ہوں کہ میری بیعت کرنے والوں میں دن بدن صلاحیت اور تقومی ترقی پذیر ہے۔اور ایام