اصحاب احمد (جلد 10) — Page 382
382 ہے۔برابر یہ مسئلہ ہر روز لگا ہوا ہے۔اور اس کے اہتمام میں مکرمی مولوی حکیم نورالدین صاحب بدل و جان کوشش کر رہے ہیں۔اکثر دور کے مسافروں کو اپنے پاس سے زاد راہ دیتے ہیں۔چنانچہ بعض کو قریب تمیں تھیں یا چالیس چالیس روپیہ کے دینے کا اتفاق ہوا ہے۔اور دو دو چار چار تو معمول ہے اور نہ صرف یہی اخراجات بلکہ مہانداری کے اخراجات کے متعلق قریب تین چار سو روپیہ کے انہوں نے اپنی ذاتی جوانمردی اور کریم انفسی سے علاوہ امدادات سابقہ کے ان ایام میں دیئے ہیں اور نیز طبع کتب کے اکثر اخراجات انہوں نے اپنے ذمہ کر لئے کیونکہ کتابوں کے طبع کا سلسلہ بھی برابر جاری ہے۔گو بوجہ ایسے لا بدی مصارف کے اپنے مطبع کا اب تک انتظام نہیں ہو سکا۔لیکن مولوی صاحب موصوف ان خدمات میں بدل و جان مصروف ہیں اور بعض دوسرے دوست بھی اپنی ہمت اور استطاعت کے موافق خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔مگر پھر بھی کب تک اس قدر مصارف کا متحمل نہایت محدود آمدن سے ممکن ہے؟ غرض ان وجوہ کے باعث سے اب کے سال التوائے جلسہ مناسب دیکھتا ہوں۔(۴۱) ،، تین سو تیر و صحا بہ میں شمولیت دو بار حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب ان خوش قسمت بزرگوں میں سے تھے جن کے اسماء دو باران فہرستوں میں درج ہوئے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مثیل صحابہ بدر قرار دیا ہے۔حضور رقم فرماتے ہیں کہ حدیث صحیح میں آچکا ہے کہ مہدی موعود کے پاس ایک چھپی ہوئی کتاب ہوگی جس میں اس کے وہ پیشگوئی آج پوری ہوگئی تین سو تیرہ اصحاب کا نام درج ہوگا۔نیز فرمایا کہ میں پہلے اس سے بھی آئینہ کمالات اسلام میں (اتنے ) نام درج کر چکا ہوں اور اب دوبارہ اتمام حجت کے لئے تین سو تیرہ نام درج کرتا ہوں۔بموجب منشاء حدیث کے یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق و صفار کھتے ہیں اور حسب مراتب جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے بعض سے محبت اور انقطاع الی اللہ اور سرگرمی دین میں سبقت لے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اپنی رضا کی راہوں میں ثابت قدم کرے۔☆ انجام آتھم (ضمیمہ ) صفحہ ۴۰ تا ۴۵ - اس میں آپ کا نام نمبر ۲۳۶ پر منشی حبیب الرحمن صاحب حاجی پور کپورتھلہ مرقوم ہے اس فہرست میں کپور تھلہ کے دیگر احباب منشی اروڑ ا صاحب، ( باقی اگلے صفحہ پر )