اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 357 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 357

357 ابھی آیا۔ہم بہت شرمسار ہوئے کہ حضور خود ہماری خدمت کر رہے ہیں۔ہم ناشتہ سے فارغ ہوئے تو حضور پھر تشریف لائے ہم نے ہر چند کوشش کی کہ ہم خالی برتن پہنچادیں لیکن حضور نے یہ بات قبول نہ کی اور خود برتن واپس لے گئے اور فرمایا۔ٹھہرئیے۔میں ابھی آیا۔اور پھر چونہ پہن کر اور چھڑی لے کر تشریف لائے اور فرمایا آئیے۔ہمارا سامان یکہ میں تھا۔حضور تقریر کرتے ہوئے ہمارے ساتھ پیدل نہر کے پل تک تشریف لے گئے اور ہمیں یکہ پر سوار کرا کے رخصت کر کے واپس ہوئے۔ہم غلام اپنے آقا کی اس غلام نوازی پر بے حد شرمندہ تھے۔۵- مولوی محب الرحمن صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ والد صاحب ظہر کے وقت قادیان پہنچے اور نماز ظہر میں مسجد مبارک میں شریک ہوئے۔نماز کے بعد اندرون خانہ جاتے ہوئے حضور پاس سے گذرے تو والد صاحب نے سلام عرض کیا۔حضور نے آواز پہچان کر آپ کو دیکھا اور پاس ہی کچھ دیر تشریف فرما ہوئے اور حال وغیرہ دریافت کیا۔پھر فرمایا کہ ابھی تو آپ ٹھہریں گے اور پھر اسلام علیکم کہہ کر اندر تشریف لے گئے۔* اخبارات سلسلہ میں بھی آپ کی آمد قادیان کا ذکر ہے۔چنانچہ (۱) زیر عنوان ” دارالامان کا ہفتہ قادیان میں اس ہفتہ آنے والے گیارہ احبابمیں ”حاجی پور پھگواڑہ سے آنے والے ) جناب حبیب الرحمن صاحب رئیس“ کا نام شامل ہے۔اس وقت جلسہ سالانہ کے لئے احباب کی آمد شروع ہوگئی تھی اور یہاں مرقوم ہے کہ بوجہ کثرت احباب اب ان کے نام درج نہ کئے جاسکیں گے۔اور صرف شہروں کے نام دیئے جا سکیں گے۔چنانچہ (مشرقی) افریقہ کے علاوہ سیالکوٹ مالیر کوٹلہ ، امرتسر ، امروہہ (یو پی) اور جموں کے نام درج کئے گئے ہیں۔۲ - زیر عنوان ” امام الزمان کی ڈائری ۳ اکتو بر۱۹۰۲ء کے بارے رقم ہے کہ آج جمعہ کا دن ہے۔حضرت اقدس کا معمول ہے کہ جمعہ کو سیر کو تشریف نہیں لے جاتے بلکہ نماز جمعہ کی تیاری کے لئے مسنون طریق پر نسل حجامت، تبدیلی لباس حنا وغیرہ امور میں مصروف رہتے ہیں۔اس لئے تشریف نہیں لے گئے۔جمعہ سے پیشتر ندوہ کے لئے ایک اشتہار لکھا جو کل۔۔۔عصر کے وقت صرف ایک صفحہ کا تجویز کیا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے قلم اور کلام میں وہ قوت اور روانگی دی ہے۔کہ جو اعجازی رنگ سے رنگین ہے۔اس لئے بجائے ایک صفحہ کے کئی صفحے ہو گئے۔✗ مولوی محب الرحمن صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ واقعہ میرے سامنے کا غالبا ۱۹۰۳ء کا ہے۔میں اس وقت قادیان میں آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم تھا۔سہو کتابت صحیح لفظ روانی ہے (مولف اصحاب احمد )