اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 356 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 356

356 آمد کی اطلاع ہونے پر حضور کبھی ذرا توقف سے موسم کے مطابق شربت یا چائے اٹھائے ہوئے شگفتہ چہرہ اور ہشاش بشاش باہر تشریف لے آتے اور کبھی مصروفیت کی وجہ سے آنے سے پہلے کسی کے ہاتھ شربت یا چائے بھجوادیتے اور بوقت ملاقات خوشی کا اظہار فرماتے۔جب خدام واپسی کی اجازت چاہتے تو حضور فرماتے ابھی اور ٹھہرئیے خدام حضور پر پروانہ وار قربان تھے۔اور حضور کی باتیں سننے کے بھو کے تھے۔حضور کا خدام سے سلوک بھی بے حد محبت کا تھا۔(روایت بواسطه شیخ عبدالرحمن صاحب) ۳- ایک دفعہ میں قادیان گیا ہو اتھا۔متواتر چار دن بارش ہوتی رہی۔بارش بند ہوئی تو حضور سے فجر کے بعد میں نے اجازت حاصل کی۔بٹالہ جانے کے لئے حضرت میر ناصر نواب صاحب نے ایک ٹمٹم کرایہ پر لی اور خواجہ جمال الدین صاحب اور میں نے بھی ایک ٹمٹم کرایہ پر لی۔صبح کو ہم مصافحہ کے لئے حاضر ہوئے تو حضور نے فرمایا ذرا ٹھہریئے میں ابھی آتا ہوں عرض کیا گیا کہ پانی ہی پانی ہے۔حضور تکلیف نہ فرما ئیں مگر حضور نے یہ بات قبول نہ کی۔اندر تشریف لے گئے اور فورا ہمارے لئے چائے بھجوائی۔ہم نے پی لی پھر حضور تشریف لائے اور پاپیادہ ہمارے ساتھ خاکروبوں کے محلہ تک تشریف لے گئے۔اس سے آگے بارش کا پانی بہت زیادہ تھا۔میر صاحب تو ٹمٹم میں سوار ہو گئے حضور نے فرمایا کہ پیدل چلنا چاہیئے پانی ہونے کی وجہ سے تمام راستہ مخدوش ہے۔ہم نے دھوتیاں باندھی ہوئی تھیں۔خواجہ صاحب نے کہا کہ میں تو تیا رہوں لیکن منشی صاحب زیادہ پانی سے ڈرتے ہیں۔میں نے عرض کی کہ میں پانی سے بہت ڈرتا ہوں اور کبھی ٹخنے ٹخنے پانی تک میں بھی میں نہیں چلا - حضور واپس تشریف لے گئے۔تھوڑی دور جا کر ہماری ٹمٹم غراپ سے کسی جو ہر میں پانی میں گر گئی۔ایک پہیہ پانی سے باہر تھا۔ہم دونوں اترے اور پا پیادہ بٹالہ پہنچے۔۴- ایک دفعہ میں قادیان گیا۔میرا قیام گول کمرہ میں تھا۔دو تین دن کے قیام کے بعد حضور سے اجازت چاہی گئی۔حضور نے فرمایا ٹھہر و۔سو میں ٹھہرا رہا اور جب چھ سات روز ہو گئے تو صبح کے وقت اجازت چاہی فرمایا۔ٹھہرئیے میں ابھی آتا ہوں۔منشی ظفر احمد صاحب اور غالب نشی اروڑے خاں صاحب بھی ساتھ تھے۔ہم نے تیاری شروع کر دی حضور تھوڑی سی دیر میں اندرون خانہ سے کافی ناشتہ لے کر گول کمرہ میں تشریف لائے۔ایک سینی میں گرم گرم پر اٹھے تھے اور ایک بڑے سے لوٹے یا جگ میں پانی یا سی تھی۔ہم کھڑے ہو گئے اور یہ سب کچھ حضور کے ہاتھوں سے پکڑ لیا اور معذرت کی لیکن حضور نے فرمایا نہیں۔کوئی حرج نہیں یہ میرا فرض ہے، آپ شروع کریں میں خواجہ کمال الدین صاحب لاہور کے برادر خواجہ جمال الدین صاحب جموں میں ملازم تھے (مولف اصحاب احمد )