اصحاب احمد (جلد 10) — Page 269
269 ۶۷- از ماسٹر فقیر اللہ صاحب) ” میں حضرت مسیح موعود کی خدمت میں بہت کم دعا کے لئے لکھتا تھا کیونکہ کئی دفعہ حضرت صاحب جب نماز کے لئے تشریف لاتے تو فرماتے کہ میں نے آپ سب لوگوں کے لئے دعا کی ہے۔تو میرا خیال تھا کہ جب حضرت صاحب کو خود ہمارا خیال ہے اور دعا فرماتے رہتے ہیں۔تو ان کے اوقات گرامی میں حارج نہیں ہونا چاہئے۔چنانچہ مجھے تقریبا بارہ سال حضور کی خدمت میں رہنے کا موقع ملا۔اس سارے عرصہ صرف چند بار میں نے دعا کے لئے لکھا ہوگا۔شروع شروع میں جب میں نے قادیان کی رہائش اختیار کی تو عموماً مقروض رہتا ایک دفعہ حضرت صاحب کی خدمت میں قرضہ کی سبکدوشی کے لئے دعا کرنے کے واسطے عریضہ لکھا جواب میں حضور نے تحریر فرمایا دعا کیا کرو۔اللہ تعالیٰ بے پرد نہ کرے۔چنانچہ اس وقت سے اب تک میں حضور کے اس ارشاد کا اثر محسوس کر رہا ہوں۔بڑے بڑے سخت مراحل میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بے پرد نہیں کیا۔اور آئندہ بھی انشار اللہ نہیں کرے گا۔بعض اوقات میں ہزاروں کا مقروض ہو گیا ہوں لیکن کبھی بے پر نہیں ہوا جس وقت کسی قرض خواہ نے مجھ سے کوئی رقم طلب کی خود اللہ تعالیٰ کوئی سبب بنادیتا ہے جو مجھے مطلوبہ رقم مل جاتی ہے اور میں ادا کر دیتا ہوں۔اگر میں کسی سے کوئی وعدہ کروں تو ہر وقت میری یہ خواہش رہتی ہے کہ وقت پر وعدے کا ایفاء ہو جائے۔اور اللہ تعالیٰ کوئی نہ کوئی سامان بھی پیدا کر دیتا ہے۔ذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يَوْتِيهِ مَنْ يَّشَاءَ۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ “ " ۲۸ - ( از مولوی صاحب موصوف )۔جب میں کوئٹہ میں کمانڈر میجر جنرل ہڈلٹسن کا مینجر تھا۔(یعنی ۱۹۳۶ء کے قریب۔مؤلف ) میری آنکھوں میں موتیا بند کا پانی آرہا تھا۔اور میں بمشکل سے پڑھ سکتا تھا۔ایک انگریز ڈاکٹر ہالینڈ جو آنکھوں کا خاص ڈاکٹر تھا۔اس کے پاس جنرل موصوف نے ایک رقعہ دے کر مجھے بھیجا اس نے اچھی طرح معائنہ کر کے کہا کہ تین ماہ بعد بینائی بند ہو جائے گی پھرا پریشن کروں گا۔آپ تین ماہ بعد پھر آئیں میں نے حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کیا تھا۔کہ مجھے حضور کا کوئی تبرک دیں تو انہوں نے ایک واسکٹ دی اور فرمایا کہ میں تم کو ایسی چیز دیتی ہوں۔جو حضرت صاحب کے جسم پر خوب لگی ہوئی ہے۔اور اس کے استعمال کا طریقہ بھی بتادوں۔کہ جب کوئی اہم کام یا مشکل در پیش ہو تو درود شریف پڑھنے کے بعد اس کو ہاتھوں پر رکھ کر دعا کرنا۔مشکل انشاء اللہ حل ہو جائے گی۔یہ معنی ہیں اس کے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں بھی حافظ نبی بخش صاحب کی طرح اس مقدس تبرک سے برکت حاصل کروں۔چنانچہ تہجد کے نوافل کے بعد میں درودشریف پڑھ کر حضور کی اس