اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 258 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 258

258 بائیں پاؤں کو کھجلایا۔“ ۴۲۔( از مولوی صاحب موصوف )۔ایک دفعہ نماز عصر میں جس میں حضرت خلیفہ اول امام تھے۔حضور نے امام کی اقتداء کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا جو قریباً ہم سب مقتدی ادا نہ کر سکے یعنی حضرت خلیفہ اول نے دوسری رکعت کے لئے اٹھنے میں ذرا دیر لگائی ہم سب مقتدی کھڑے ہو گئے لیکن حضرت مسیح موعود اسی طرح بیٹھے رہے اور جس طرح آہستہ آہستہ مولوی صاحب کھڑے ہوئے اسی طرح بعد میں حضرت مسیح موعود کھڑے ہوئے۔“ ۴۳۔( از مولوی صاحب موصوف )۔ایک دفعہ خوابوں کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام ذکر فرمار ہے تھے میں نے عرض کیا مومن کی رؤیا صادقہ کس قسم میں سے ہے۔فرمایا۔القاء ملک ہے۔“ (95) ۴۴۔( از مولوی صاحب موصوف )۔’۱۹۰۶ء کے سالانہ جلسہ کے تین چار دن بعد کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنے خدام کے ساتھ سیر کو تشریف لے گئے ایک شخص نے حضرت مسیح موعودؓ سے سوال کیا کہ یہ جو صوفیوں میں مشہور ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بعض باتیں عام لوگوں کو نہیں بتا ئیں بلکہ بعض خاص لوگوں کو بتلائی ہیں کیا یہ درست ہے؟ حضور نے فرمایا کہ قرآن شریف سے تو یہ ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے سب باتیں لوگوں تک پہنچادیں۔چنانچہ فرمایا۔يَأَيُّهَا الرَّسُولَ بَلَغَ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ“ ( 96 ) میں عرض کیا کہ بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہ کا قول ہے عَلِمْتُ وَعَائِينُ مِنَ الْرَسُول (97) یعنی میں نے رسول اللہ سے دو برتن علم کے سیکھے ہیں ایک کی تو میں نے تمہارے درمیان اشاعت کر دی ہے اور دوسرا برتن علم کا ایسا ہے کہ اگر میں وہ تمہیں بتلاؤں تو میرا گلا کاٹا جائے۔میں نے عرض کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض باتیں اسلام کی جو گہرے حقائق و معارف ہیں وہ نبی کریم ع له بعض صحابہ کو بتلایا کرتے تھے کیونکہ عام لوگوں کی طبائع اس کی متحمل نہیں ہوتیں۔حضور نے فرمایا۔اگر آپ کا یہ مطلب ہے تو اس کے لئے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق اور صلى الله دیگر فقہاء صحابہ اہل تھے نہ کہ ابو ہریرہ۔مطلب یہ ہے کہ بعض دفعہ بتلانے والے کی طرف سے تو روک نہیں ہوتی مگر سنے والا اپنی سمجھ میں اس کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا۔اسی طرح کی یہ بات ہے۔حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ علی سے حدیث سن لی۔جو آپ نے بنی امیہ کے متعلق بیان فرمائی اور ابو ہریرۃ اس کا اظہار کرنا موجب فتنہ وفساد سمجھتے تھے۔“ (98) یہ روایت بغیر الفاظ الحکم مورخہ ۲/۳۵/ ۲۸ میں بھی درج ہے۔اس میں موضع بسراء کی طرف سیر کا ذکر ہے۔اور حدیث کے الفاظ عَلِمْتُ مِنَ رَسُولِ اللَّهِ وَعَائِيْنُ مِنَ الْعِلِمُ درج ہیں۔