اصحاب احمد (جلد 10)

by Other Authors

Page 222 of 556

اصحاب احمد (جلد 10) — Page 222

222 کر دیا کہ حضرت مرزا صاحب صادق مسلمان ہیں اور جماعت احمدیہ بھی دیگر مسلم فرقوں کی طرح ایک فرقہ ہے اس پر وہاں کے اہلحدیث افراد نے امرت سر سے مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی کو بلا لیا۔جنہوں نے آپ پر زور ڈالا کہ دیگر دوصد علماء کی طرح آپ بھی عقیدہ وفات عیسی اور دعویٰ مسیحیت و مہدیت کے باعث ( معاذ اللہ ) حضرت مرزا صاحب کے کفر کا اعلان کریں۔آپ نے جرأت سے کام لے کر کہا کہ میں حنفی ہوں بہت بڑے حنفی عالم مولوی غلام قادر صاحب کا یہ فتویٰ میرے پاس موجود ہے کہ اہلحدیث کا فر اور خارج از اسلام ہیں۔سو آپ کو تو کافر کہنے کو تیار ہوں لیکن حضرت مرزا صاحب کو نہیں۔کیونکہ میں نے بارہا قادیان جا کر دیکھا۔ان کی باتیں سنیں مجھے کفر کی کوئی بات نظر نہیں آئی۔اس پر غزنوی صاحب نے کہا یہ پکا مرزائی ہو گیا ہے۔اور مرزا صاحب نے دعویٰ نبوت کیا ہے اسی دوران میں باپ بیٹا دو شخص غزنوی مذکور کے پاس آئے اور کسوف وخسوف کے نشان کے متعلق دریافت کیا مولوی مذکور نے کہا کہ اس بارہ میں حدیث صحیح ہے۔باپ نے بیٹے کو کہا چلو چلیں۔ہم نے جو کچھ پوچھنا تھا۔پوچھ لیا۔مولوی مذکور نے کہا کہ تم مرزا کے پھندے میں نہ پھنس جانا۔وہ کہتا ہے کہ کسوف وخسوف میری صداقت کا نشان ہیں۔اس نشان کا ذکر قرآن مجید میں نہیں اور یہ علامت مہدی کے پیدا ہونے کی ہے بوڑھے نے کہا کہ مجھے کئی مقدمات سے واسطہ پڑا ہے۔جب مدعی علیہ انکار کرے تو گواہ پیش کرنے پڑتے ہیں۔ان آسمانی نشانات نے ظاہر کر دیا کہ دنیا میں کوئی مدعی مہدویت ہے جس کا انکار کیا جارہا ہے۔اس واقعہ سے بھی مولانا بقا پوری صاحب کو احمدیت کی طرف زیادہ توجہ ہوگئی۔اور آپ مخفی طور پر جلد جلد قادیان جانے لگے۔اور ۱۹۰۴ء میں آپ نے مسئلہ نبوت کے متعلق بھی تسلی کر لی۔سفر برائے بیعت : بالآخر ۱۹۰۵ء میں آپ بیعت کے ارادہ سے قادیان کے لئے روانہ ہوئے۔اور اپنے بڑے بھائی مولوی محمد اسمعیل صاحب کو جو عالم فاضل اور صوفی منش تھے اپنے ساتھ لیا۔اور انہیں کہا کہ اگر آپ کو قادیان میں کوئی امر خلاف شریعت نظر آئے تو مجھے بتلا دیں اور اگر وہاں کی فضا مطابق شریعت پائیں تو بھی آگاہ کر دیں۔آپ کا یہ مقصد تھا کہ بھائی صاحب بھی اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ پائیں۔اور دونوں بھائیوں میں مخالفت پیدا نہ ہو۔پیدل سفر کرتے ہوئے جب دونوں دریائے راوی کو عبور کر کے فتح گڑھ چوڑیاں پہنچے تو انہوں نے